ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چین کا نیا طیارہ بردار جہاز بحیرہ جنوبی چین کی جانب گامزن

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے ملکی سطح پر تیار کردہ نیا طیارہ بردار جہازتحقیق و تربیت کے لیے بحیریہ جنوبی چین کی جانب سے روانہ کردیا۔ بیجنگ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز آبنائے تائیوان سے گزر کر بحیرہ جنوبی چین کی جانب گامزن ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق طیارہ بردار جہاز بحیرہ جنوبی چین میں جزیرہ نما چینی صوبے ہائینان جارہا ہے، جہاں اس کو مستقل تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ بیجنگ حکومت جہاز کی تعیناتی سے خودمختاری اور خطے میں چین کی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کوکوشش میں ہے۔ دوسری جانب آبنائے تائیوان سے گزرتے ہوئے امریکااور جاپان چینی جہاز کی نقل و حرکت کا جائزہ لیتے رہے۔ امریکی وزیردفاع مارک ایسپرنے آسیان ممالک کے اجلاس میں بیجنگ کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک بحیرہ جنوبی چین میں تنازعات سے بچنے کے لیے چین کو قانونی کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہ دے۔ انہوں نے اتوار کے روزبینکاک میں آسیان ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کی۔ ایسپر کا کہنا تھا کہ ویتنام کے خصوصی اقتصادی زون میں چین کی بحری سرگرمیوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔ بیجنگ بحیرہ جنوبی چین میں جنگی جہازوں کا استعمال بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے جارحانہ طرز عمل اور بے سروپا دعوؤں اوراپنے وعدوں سے پہلو تہی کے جواز کے لیے مجوزہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ بیجنگ بحیرہ جنوبی چین میں امریکی اثر رسوخ کم کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات کررہا ہے۔ادھر امریکا بھی متنازع پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کے نام پر اپنا وجود قائم رکھنا چاہتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں