ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شامی مہاجرین کا بوجھ تنہا برداشت کرنا مشکل ہے‘ ترکی

استنبول (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی شام سے آنے والے نئے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادلب میں 4لاکھ افراد رہتے ہیں، جہاں اسدی فوج کی بمباری نے ایک بار پھر خطرناک حالات پیدا کردیے ہیںاور وہاں سے ہجرت کرنے والے80 ہزار سے باشندے ایک بار پھر ترکی کی سرحد پر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ ادلب پر حملوں کو نہ روکا گیا تو مزید پناہ گزیں انقرہ کا رخ کریں گے اور ترکی تنہا یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ استنبول کے دولما باہچے محل میںایک تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ادلب کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق مذاکرات کے لیے ایک وفد روس روانہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی پر پڑنے والے منفی حالات کے اثرات ہمسایہ ممالک خاص طور پر یونان پر بھی مرتب ہوں گے۔ یورپی ممالک کو ادلب میں قتل عام روکنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت تھی، لیکن وہ تو صرف ترکی کے خلاف بیانات دینے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب صدر اردوان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انقرہ لیبیا کی قومی حکومت کی فوجی امداد کا پابند ہے اور طرابلس کی مدد کے لیے فضائی، بری اور بحری کمک فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لیبی حکومت کے ساتھ طے پائے دفاعی معاہدے پر کسی دبائو میں نہیں آئیں گے۔ صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا بھی ایک بیان میں کہنا تھا کہ ترکی نے شام اور لیبیا میں اقدامات کرکے چالوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں