ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت میں متنازع قانون کے بعد مسلمانوں پر تشددکی انتہا‘2شہید‘ مسلم علاقوں میں کرفیو

نئی دہلی: شہریت متنازع ترمیمی قانون کے خلاف آسام اور کلکتہ میں طلبہ کی بڑی تعداد مظاہرہ کررہی ہے، دوسری جانب کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی کو مظاہرے میں شرکت سے روکا جارہا ہے

نئی دہلی/واشنگٹن( آن لائن )بھارت میں مودی سرکار نے متنازع قانون بنانے کے بعد مسلمانوں پر تشدد کی انتہا کر دی۔ کانپور میں پولیس کے فائرنگ سے 2مسلم نوجوان شہید ہوگئے۔مختلف شہروں کے مسلم علاقوں میں بھارتی پولیس درندگی کرتے ہوئے گھروں میں گھس گئی، بچوں اور خواتین پر تشددکیا گیا،املاک کو نقصان پہنچایا اور گاڑیاں توڑ دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکار خواتین کو ڈراتے دھمکاتے نظر آئے۔انتظامیہ نے مسلم علاقوں میں کرفیو لگا کر لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا۔ادھر بھارتی آرمی چیف نے شہریت کے متنازع قانون میں ترمیم کے حق میں بیان پر شدید ردِعمل آنے کے بعد لہجہ بدل لیا ۔ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ بھارتی افواج میں حقوق انسانی قوانین کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور نہ صرف ملک کے عوام کے حقوق بلکہ مخالفین کے انسانی حقوق کا بھی تحفظ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فوج بہت نظم وضبط والی ہے۔علاوہ ازیں بی جے پی نے اپنے اقلیتی قائدین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ وہ مسلمانوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کی جانب سے جنوری میں ایک قومی سطح کی کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی تاکہ شہریت مسائل پر اپوزیشن کی مہم کا جواب دیا جاسکے۔دوسری جانب امریکا میں صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ڈیموکریٹ سینٹر کوری بوکر نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر بات کرنے کو جمہوریت کی خدمت قرار دے دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، امریکا کو مظلوم افراد کی آواز بننا چاہیے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں