
ہانگ کانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) ہانگ کانگ میں میں گزشتہ برس شروع ہونے والا احتجاج نئے سال میں داخل ہوگیا۔2020ء کے پہلے ہی روز ہزاروں مظاہرین نے حکومت کیخلاف احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ احتجاجی رہنماؤں کی جانب سے مظاہروں کی کال دی گئی،جس کے 3گھنٹے بعد ہی سڑکیں اور گلیاں سیاہ ماسک اور لباس پہنے افراد سے بھرگئیں۔ اُدھر پولیس نے تشدد کرتے ہوئے 400مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ جمہوریت پسند رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ برس 9جون کو ہونے والے احتجاج میں 13لاکھ شہریوں نے حصہ لیاتھا،جب کہ نئے سال کے پہلے دن مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ مظاہرین نے اس بار احتجاج کے لیے ہانگ کانگ کی عدالت عالیہ کا انتخاب کیا۔ پولیس نے شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ جواب میں مشتعل شہریوںنے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم سے حملے بھی کیے۔ صبح سویرے ہی وکٹوریا پارک کے مقام پر ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس کو لگام دے کر پر تشدد کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرائے اور زیر حراست مظاہرین کو رہا کرے۔