ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مقبوضہ کشمیر میں بھی این آر او:مقبوضہ کشمیر کے زیر حراست مرکزی سیاسی رہنما حکومت سے ڈیل کرکے ملک چھوڑ رہے ہیں

سرینگر،15 جنوری

نیشنل کانفرنس کے زیر حراست چند رہنماوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ملک سے باہر جانے کے لئے حکومت سے معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق نیشنل کانفرنس نے اس کی تردید کی ہے کہ اس کا کوئی بھی رہنما اس طرح کے معاہدے پر کوئی پیش رفت کر رہا ہے اور وہ رہا ہونے کے بعد بھی وادی میں قیام جاری رکھیں گے۔
5 اگست ، 2019 کے بعد 40 سے زیادہ کشمیری مرکزی سیاسی رہنماوں کو حراست میں لیا گیا تھا ۔
جموں و کشمیر کے تین سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو اسی دن حراست میں لیا گیا تھا لیکن انھیں الگ الگ رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد فاروق عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ اپنی گوپکر کی رہائش گاہ پر نظر بند ہیں ، جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو سری نگر میں واقع سرکاری گیسٹ ہاسز میں رکھا گیا ہے۔
اگرچہ این سی نے اس سے انکار کیا ہے کہ اس کے قائدین ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی کے اعلی رہنماوں کے پاس کشمیر کو خیربادکہنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کی سیاست کا جموں و کشمیر کے نئے تیار کردہ یونین ٹریٹری میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں