طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے نمایندہ خصوصی غسان سلامہ نے کہا ہے کہ لیبیا میں جاری لڑائی ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ کے روز جنیوا میں لیبیا کے جنگی فریقین کے درمیان مذاکرات سے قبل غسان سلامہ نے ایک پریس کانفرنس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تشدد سے جنگ بندی کو لاحق خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا کے مسلح تنازع میں اگر اسی طرح غیرملکی مداخلت جاری رہی، تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ دوسری جانب لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں باغی کمانڈر خلیفہ حفتر کی ملیشیا نے معیتیقہ ائرپورٹ پر 60گراڈ راکٹ داغے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوگئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق باغی ملیشیا نے دارالحکومت میں شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ طرابلس میں طبی امدادی ادارے ایف ایم ایس سی کی رپورٹ کے مطابق 41روز کے دوران باغیوں کی بمباری کے نتیجے میں 21شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 9جنوری سے 20فروری کے دوران حفترملیشیا نے بم باری کے دوران دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس دوران بچوں اور خواتین کے علاوہ معمر افراد بھی نشانہ بنے۔ واضح رہے کہ لیبیا میں عالمی حمایت یافتہ حکومت اور حفتر ملیشیا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہونے کے باوجود باغی دارالحکومت پر حملے کررہے ہیں۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ معیتیقہ ائرپورٹ پروفاقی حکومت کی فوج کے ساتھ تُرک فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ باغیوں کے ایک اعلیٰ عہدے دار بریگیڈیر خالد المحجوب کا کہنا ہے کہ ان کی ملیشیا کی گولہ باری سے معیتیقہ ہوائی اڈے پر کم از کم 7 تُرک فوجی مارے گئے ہیں۔ ساتھ ہی باغیوں نے طرابلس میں ترکی کا ایک مسلح ڈورن طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
عمان: اقوام متحدہ کے نمایندہ خصوصی مارٹن گریفتھس یمنی فریقین سے خطاب کررہے ہیں