
جب سے چین کے صوبے ووہان میں کورونا وائرس کی وباء کا سلسلہ چل نکلاہے اس وقت سے اب تک ساری دنیا میں ایک خوف و ہراس پھیلادیا گیا ہے جس کی وجہ سے ساری عالمی برادری،حکیومتیں اور بین الاقوامی ادارے تک پریشان اور کنفیوژ ہیں کہ اس کا مقابلہ کیونکر کیا جائے کیونکہ اب تک یہ وائرس دنیا کے کم و بیش 63 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ اب تک اس کے متاثرین کی تعداد دنیا بھرکے62 ممالک میں ایک اندازے کے مطابق 85,473 تک پہنچ چکی ہے جن میں اسی ہزار کے قریب متاثرین چین میں موجود ہیں۔تین ہزارافراد اس وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 39,605 ہے ۔ابھی تک اس کا مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا تاہم دنیا کے قابل ترین طبعی ماہرین اس پر شب و روز کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ دنیا میں کوئی بیماری ایسی جس کا علاج نہ ہو تاہم بعض اوقات انسان کی اپنی کوتاہی اور غفلت ہوتی ہے جو نت نئی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے کہ جیسے ہی کورونا وائرس کی اطلاعات اور کچھ اس کے متاثرہ افراد کا پاکستان میں معلوم ہوا تو ہمارے ہاں ایک عجیب سی فضا بنا دی گئی پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر عجیب مضحکہ خیز باتیں،ٹوٹکے اور اور لطیفے شیئر کیے جا رہے ہیں جنھیں پڑھ کر دکھ بھی ہوتا ہے اور شرم بھی آتی ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں جو بیماری کو سنجیدہ لینے اور اس کے مناسب و ممکن علاج پر توجہ دینے اور بات کرنے کی بجائے اس کو طنزومزاح کا رنگ دے دیتے ہیں جو کہ انتہا درجے کی غیر ذمہ داری ہے۔نیم حکیم والے ٹوٹکوں سے اجتناب لازم ہے۔پوری قوم کو ماسک اور پیاز جیسی باتوں میں الجھا دینا جہالت ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صفائی نصف ایمان ہے،پرہیز علاج سے بہتر ہے اور مضر صحت اشیاء کا استعمال ہمیشہ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے ہمیں ہر اس اچھی بات پر عمل کرنا چاہیے جس میں انسانیت کی بھلائی کا پہلو نکلتا ہو۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں ہے تاہم احتیاط کی ہر ممکن ضرورت ہے اور ہمارے طبی ماہرین پر لازم ہے کہ اس وائرس پر تحقیق کریں۔کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظرسعودی عرب نے عمرہ زائرین کے داخلے پر پابندی لگادی ہے ۔پاکستان نے ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایران کے ساتھ براہ راست پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکہ،انگلینڈ،جرمنی، فرانس اورافریقی ممالک سمیت درجنوں ملکوں میں یہ وائرس منتقل ہو چکا ہے کیونکہ دنیا بھر سے لاکھوں لوگ چین کا سفر کرتے ہیں اور اب یہ صورتحال ہے کہ چین سے آمدورفت ختم ہو چکی ہے جس کے باعث چین کی معیشت کو اربوں نہیں کھربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی صنعتیں چین میں اپنی مصنوعات تیار کر رہی تھیں جن کا کاروبار تقریبا بند ہو چکا ہے۔ہمیں اس سے سبق بھی حاصل کرنا ہوگا کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ چین معاشی لحاظ سے پوری دنیا میں سر فہرست اور تعمیر ترقی کی نئی بلندیوں کی جانب جا رہا تھا امریکہ کو چین کی حیرت انگیز ترقی سے بہت سے خدشات لاحق تھے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان عالمی منڈی پر قابض رہنے معاشی اجارہ داری کیلئے سرد جنگ جاری تھی اور بلاشبہ چین نے سی پیک جیسا منصوبہ شروع کر کے ساری دنیا کیلئے تعمیر وترقی اور تجارت کی راہیں آسان کر دی تھیں اگرچہ ابھی ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچنا ہے،5Gنیٹ ورک کی بدولت چین نے ساری دنیا کی معیشت کیلئے نئی راہیں کھول دی تھیں۔ امریکہ کا چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کاایک اعلان 4 فریقی ڈائیلاگ کی بحالی کی صورت سامنے آیا ہے اور بلیو ڈاٹ نیٹ ورک پر کام کے آغاز کے بیانات سے ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے بھارت میں کہا تھاکہ ہم نے 4 فریقی یعنی بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا ڈائیلاگ کی بحالی پر بھی بات کی ہے۔ اس 4 فریقی فورم کا پہلا وزارتی اجلاس ہوچکا ہے۔بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کا اعلان نومبر 2019 میں کیا گیا تھا اور اس وقت بھی اس منصوبے کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا متبادل قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کا طریقہ بیلٹ اینڈ روڈ سے بالکل مختلف ہے، جیسے بیلٹ اینڈ روڈ میں چین کے سرکاری بینک منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں اور بین الحکومتی سطح پر ترقیاتی منصوبے انجام پاتے ہیں لیکن بلیو ڈاٹ نیٹ ورک میں کوئی قرض یا فنڈ نہیں رکھا گیا بلکہ یہ فائیو اسٹار ہوٹلوں کی سرٹیفکیشن جیسا منصوبہ ہے جس میں مختلف منصوبوں کو قابلِ عمل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جس کی بنیاد پر بین الاقوامی کمپنیاں اور بینک ان منصوبوں کو فنانس کریں گے۔افغانستان میں امن معاہدے کے بعد بھی امریکا کو افغانستان تعمیر نو اور دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کے لیے تعاون درکار ہوگا۔ پاکستان کو افغانستان میں اپنے مفادات کا تحفظ ہر صورت کرنا ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ ہمارے بہت گہرے روابط رہے ہیں اور ان میں مزید بہتری دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ابھی تک پچیس لاکگ سے زیادہ افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیںبھارت افغانستان میں کردار چاہتا ہے جو اسے فوری نہیں مل سکا لیکن بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کے ذریعے گلوبل انفرااسٹرکچر کے نام پر جو منصوبے بنیں گے ان میں بھارت کو بھی حصہ ملے گا اور افغانستان بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کے لیے زیادہ اہم ہوگا کیونکہ جنگ سے تباہ حال ملک کو نئے سرے سے تعمیر کرنا بہت بڑا منصوبہ ہے اور تمام ملک اس منصوبے میں اپنا حصہ لینے کو تیار ہیں۔اس طرح چین اور امریکہ کے درمیان بھی بہترین نوعیت کے تجارتی تعلقات فروغ پا سکتے ہیں۔