ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جیکب آباد ، کھلی کچہری میں جیالوں نے شکایات کے انبار لگا دیے

جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جیکب آباد میں وزیر اعلیٰ سندھ کے خصوصی معاونین کی کھلی کچہری، جیالوں نے شکایات کے انبار لگا دیے، عام شہری کو کم موقع ملا، دو شہریوں کے شکایات کے دوران مائیک بند کر دیے گئے، خصوصی طور پر سرکاری ملاز م بلوا کر بٹھائے گئے، کھلی کچہری میں ایم پی اے کی محکمہ صحت سیپکو اور گیس کی کمی کے متعلق شکایت، معذروں کا نوکری پر بحالی کا مطالبہ، جعلی کھاد، پنچائت کے الیکشن نہ ہونے، محنت کشوں پر مقدمات، محکمہ ہائی اور خزانہ آفس میں کرپشن، جمس میں ایمرجنسی شروع نہ ہونے، سول اسپتال کی تباہی کی شکایات کے انبار۔ فراہمی آب کے منصوبے میں تاخیر کی تحقیقات کرائی جائے گی، جمس میں ایمرجنسی شروع نہ ہونے کا نوٹس لیا ہے، عوام کے مسائل حل کریں گے، وقار مہدی اور اشفاق میمن کی شہریوں کو یقین دہانی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے خصوصی معاونین وقار مہدی، اشفاق میمن نے ڈی سی آفس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ایم پی اے ڈاکٹر سہراب سرکی، ممتاز جکھرانی، ضلعی صدر پی پی میر لیاقت لاشاری، میر فہد خان پنہور، ڈی سی غضنفر علی قادری، ایس ایس پی بشیر بروہی اور دیگر افسران نے شر کت کی۔ کھلی کچہری میں اسٹیج پر بیٹھے جیالے دیدار جکھرانی نے شہر میں جعلی کھاد فروخت ہونے کی شکایت کی۔ پی پی کے واردڈ ممبر بابو مہیش نے ہندو پنچائت کے الیکشن نہ ہونے، نومسلم علیزہ کو شیلٹر ہوم بھیجنے، غضنفر پٹھان نے ڈرائیونگ لائسنسں کے اجرا میں مشکلات کی شکایات کی۔ سماجی رہنما عبدالحئی نے سول اسپتال کی تباہی، سرکاری ڈاکٹر سے جمس میں ڈیپوٹیشن پر عدالتی حکم نامے کے باوجود تقرری، خزانہ آفس میں رشوت ستانی، افسران کی عدم موجودگی، موتی رام نے جمس میں دوا نہ ملنے، حاجی معشوق نے محنت کشوں پر ناجائز مقدمات، لیبر کالونی کی تباہی، نواز سولنگی نے محکمہ ہائی میں نچلے گریڈ کے ایس ڈی او کو ایکسیئن ہائی وے مقرر کرنے، سڑکوں کو تعمیر نہ ہونے کے باوجود ٹھیکیداروں کو بھاری رشوت کے عوض 3 کروڑ روپے جاری کرنے، مجاہد علی کھاتے میں ہیرا پھیری اور حصہ نہ ملنے، نجیب زہری کا انتقامی کارروائی کے طور پر گڑھی خیرو کے بروہی برادری کے دیہات میں ترقیاتی کام نہ ہونے، تجاوزات کی آڑ میں شہریوں کے نقصان کرنے، قیصر شاخ میں بھل صفائی نہ ہونے اور خادم حسین نے میرانپور تھانے کی عمارت نہ ہونے کی شکایات کی گئیں جبکہ سترام داس نے احساس کارڈ کے اجرا کا سینٹر ہندو پنچائت میں قائم کرنے، بلدیہ سے برطرف معذور دیدار علی بروہی اور نابینہ رحیم بخش لاشاری نے نوکری پر بحالی اور شعبان منجھو نے معذور کوٹے پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایم پی اے ممتاز جکھرانی نے بھی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ جمس میں مریضوں کو معیاری ادویات نہیں ملتی، سفارش پر علاج کیا جاتا ہے، ڈاکٹرسرکاری ڈیوٹی کے بجائے پرائیویٹ کلینک پر توجہ دیتے ہیں۔ گڑھی خیرو میں سوئی گیس کے کم پریشر کی شکایت ہے، سیپکو دس افراد کے بل نہ دینے پر پورے محلے کو بجلی سے محروم کر دیتا ہے جو زیادتی ہے۔ ایس ڈی او اور سیپکو عملہ اپنی رشوت ستانی اور بجلی چوری کا ملبہ اضافی بل بھیج کر عوام سے لے رہا ہے، جو قابل افسوس ہے، اس کا نوٹس لیا جائے، نادرا آفس گڑھی خیرو میں بھی قائم کی جائے۔ کھلی کچہری میں نجیب زہری اور ایم ڈی عمرانی کا شکایات کے دوران مائیک بند کردیا گیا، عام لوگوں کو شکایات کا بہت کم موقع ملا، کئی لوگ مسائل سے آگاہ کرنے سے ہی رہ گئے، سرکاری ملازمین کو چھٹی کے دن بلوا کر کھلی کچہری میں بٹھایا گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں