
افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی نے امن معاہدہ کی تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدہ افغانستان کی مجاہد قوم اور عالمی برداری کے لیے خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک خود مختار سیاسی فورس درکار ہے جو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ برابری کی سطح پر دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان قوم اسلامی نظام کے تحت تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھے گی۔ملا عبدالغنی کی یہ بات نہایت اہم اور افغان طالبان کی فیصلہ کن سوچ اور عمل کی عکاس ہے کہ وہ افغانستان میں اسلامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں اور اپنے ملک کو اسلامی قوانین کے تحت آگے لیکر جانا چاہتے ہیں اس بات پر اشرف غنی کو یا ایران کو کیا مسئلہ ہے۔ایران نے ہمیشہ طالبان حکومت کیلئے پریشانیاں پیدا کی تھیں اس کی وجہ کیا ہے۔اگر ایران میں خود ان کے بقول اسلامی انقلاب آسکتا ہے اور وہ اپنے موجودہ حکومت کو اسلامی حکومت کہتے ہیں تو ان کو ملا محمد عمر مجاہد کے اسلامی انقلاب اور روئے زمین کی سادہ ترین حکومت سے دشمنی کیوں تھی۔میرا آج بھی یہ دعوی ہے کہ طالبان قیادت نے کبھی بھی افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز بنانے کی سازش یا منصوبہ بندی نہیں کی جہاں تک اسام بن لادن یا کسی بھی نام نہاد جہادی جماعت کی بات ہے تو وہ سب سازشیں افگانستان سے باہر تیار ہوتی رہی ہیں اور ان کا عملی مرکز افغان سرزمین کو بنایا جاتا رہا ہے جس کے خلاف طالبان نے اپنے حقوق کی جنگ تمام تر بے سروسامانی کے باوجود جرات و استقامت کے ساتھ لڑی اور جاری رکھی ہے۔اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی اور فتنہ پیدا کرنے پر میں با ر ہا لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک سازش کے تحت وہاں گیا تھا جس کا اول و آخر مقصد طالبان کی حکومت ختم کرنے اور افغانستان پر حملے کا جواز پیدا کرنا تھا۔ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اسامہ بن لادن خود افغانستان سے نکل جاتا کیونکہ طالبان قیادت کا یہ واضع موقف تھا کہ اسامہ بن لادن افگانستان مہں مہمان کے طور پر آیا ہے لہذا ہم اسے نکلا نہیں سکتے البتہ اس کی اپنی مرضہ ہے کہ یہ افغانستان سے خو چلا جائے لیکن ساری دنیا نے دیکھا نائن الیون کے بعد اسامہ نے کیا کیا اور امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف کس سفاکی کے ساتھ جدید ترین جنگی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔لاکھوں لوگ زخمی ہیں لاکھوں بے گھر و بے آسرا ہیں۔امریکہ ہر غلط اقدام کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہراتا ہے جو کہ بالکل غلط بات ہے اور یہی فتنہ ہے اگر امریکہ نے افغانستان میں امن قائم کرنا ہے تو طالبان کی اسلامی حکومت کو تسلیم کرنے کے ساتھ قبول بھی کرنا ہوگا اور افغانستان کے اندر جو بھی گروہ موجود ہیں انھیں افغان طالبان کی قیادت میں رہتے ہوئے اپنے محدود اور جائز حصے پر اکتفا کرنا ہوگا۔ایران یا بھارت کو اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی فکر کرنی چاہئے اگر یہ لوگ افغانستان کے خلاف سازشیں کریں گے تو انھیں بھی اپنے انجام کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ ابھی اس امن معاہدے کے بعد امید کی جاتی ہے کہ طالبان جدید دور کے تقاضوں کے مطابق افغانستان میں بہترین اسلامی حکومت قائم کریں گے اور عالمی برادری کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان کو دوسرے اسلامی ملکوں کے سربراہوں کیلئے بھی مثال قائم کرنا ہوگی جو سازشوں کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں اور سکہ بند بدمعاش اپنے ہی عوام کے دشمن بن کر ملک کو معاشی و اخلاقی لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر کسی کو اقبال کے اس شعر کو سمجھنا ہے تو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونیوالے امن معاہدہ پر بار بار غور کر لے تو بات سمجھ آجائے گی۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ترکی اور قطر کے سوا دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کو اپنے گریبان میں ضرورجھانکنا چاہیے کہ وہ کس قسم کے مسلان اور اپنے ملک و قوم کیلئے عملی سطح پر کیا قربانی دے رہے ہیں میں تو ان سب کو غاصب و مکار اور دروغ گو کہتا ہوں۔مجھے قطر کے حکمرانوں کا بصد اخلاص شکریہ ادا کرنا ہے کہ انھوں نے اسلامی بھائی چارے کا حق ادا کردیا ہے ۔اس امن معاہدے کا سارا کریڈتٹ قطر حکومت کے سر جاتا ہے اور امن کا نوبل انعامدولت قطر کی اس شخصیت کا حق ہے جس نے اپنے مخلص دوستوں کے ساتھ مل کر بیس برس سے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور آخر ساری دنیا نے دیکھا کہ قطر نے تاریخ سازامن معاہدے میں وہ کردار ادا کیا جو انسانی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔اللہ تعالی بے نیاز ہے۔بادشاہی صرف اللہ کی ہے انسان کیلئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔