بدین(جسارت نیوز )صدر الفرینڈ فٹبال کلب بدین زید بن سنی خان نے کہا ہے کہ پاکستان فٹبال فیڈریشن نارملائزیشن کمیٹی فیفا اور اے ایف سی کے قوانین کو پامال کر رہی ہے اور پورے پاکستان میں صوبائینارملائزیشن کمییٹوں میں اپنے خاص لوگوں کو نواز رہی ہے .واضح رہے کے فیفا نے گزشتہ سال ستمبرمیں پی ایف ایف پر پابندی لگا کر 5رکنی نارملائزیشن کمیٹی تشکیل دی اور ٹاسک دیا کے پاکستان میں فٹبال فیڈریشن کے معاملات کو چلائے اور فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے لیکن 6 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد نارملائزیشن کمیٹی کوئی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی اور اسی دوران ملک میں اپنے خاص لوگوں کو نوازنا شروع کر دیا.پورے ملک کی صوبائی نارملائزیشن کمیٹیوں میں2 سے 3مرتبہ ردو بدل کردیں اور کراچی کے یونائٹڈ فٹبال کلب سے تعلق رکھنے والی نا تجربہ کار نان فٹبالر نان فٹبال کردار کو پی ایف ایف کا ایکٹنگ جرنل سیکریٹری مقررکیا جو کے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے ہونے والے انتخابات میں کھلم کھلا دھاندلی کا ثبوت ہے. یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کے سابقہ پی ایف ایف باڈی جس پر فیفا اور اے ایف سی نے پابندی لگائی تھی تو اس ہی باڈی نے موجودہ پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کو لگ بھگ 17 کروڑ رپے بینک اکاونٹس میں دیئے جو کہ پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی کے ممبران کی تنخواہ کی مد میں4 سے ساڑھے 4 ہزار ڈالر ماہانہ وصول کر رہے ہیں اور ایکٹنگ جنرل سیکریٹری کراچی سے لاہور آنے جانے اور ہوٹلنگ چارجز اور بھاری ٹی اے اور ڈی اے وصول کر رہے ہیں جو کہ پی ایف ایف میں کروڑوں کی کرپشن کا ثبوت ہے.2 روز قبل چئیرمین نارملائزیشن کمیٹی کی جانب سے ویڈیو لنک پریس کانفرنس میں ملکی فٹبال حلقوں اور اصل فٹبال اسٹیک ہولڈرز نے آڑے ہاتھوں لیا.جس پر چیرمین پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی نے میڈیا کے سوالوں کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا اور پریس کانفرنس میں کورونا وائرس کا زکر کرتے رہے جس سے اصل ملکی فٹبال اسٹیک ہولڈرز نے شدید تشویش کا اظہار کیا اورچئیرمین نے عندیہ دیا کے ہمیں اس کام کو مکمل کرنے میں مزید6 ماہ لگ سکتے ہیں جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں نارملائزیشن کمیٹی کا کام فٹبال کے کلبوں کی رپورٹ لینا اور اسکروٹنی کرنا ہے اور 2 ماہ کے اندر اندر انتخابات کروانا ہیں مگر یہ لوگ6 ماہ کا ٹائم صرف اور صرف پی ایف ایف کے اکاونٹ سے بھاری تنخواہ وصول کرنے اور پی ایف ایف کے خزانے کو نقصان پہچانے کے لیے مانگ رہے ہیں ۔آخر میں فیفا اور اے ایف سی سے پاکستانی اصل فٹبال اسٹیک ہولڈرز نے پرزور اپیل کی کہ وہ پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی پر نظر ثانی کرے۔