ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکی عدالت عظمیٰ ہجرت کے خلاف ٹرمپ کی ہمنوا بن گئی

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت عظمیٰ نے نیویارک اور دو دیگر ریاستوں کی جانب سے کرونا وائرس کی وبا کے دوران مہاجرین سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو معطل کرنے کی کوشش مسترد کر دی۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی ایسے مہاجرین کو مستقل قانونی رہایش پیش کرنے پر پابندی عائد کرتی ہے جو امریکی انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں حکومتی مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں۔ امریکی عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں نیویارک، کنیکٹیکٹ اور ویرماؤنٹ ریاستوں کی درخواست خارج کر دی۔ مذکورہ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوششوں میں رکاوٹ بنے گا۔ اس لیے کہ مہاجرین طبی نگہداشت اور عمومی سہولیات کے حصول سے محروم رہیں گے جو لوگوں کے تحفظ کی بنیادی ضروریات ہیں۔ ہجرت کے حقوق کا دفاع کرنے والوں کی جانب سے ٹرمپ کی حالیہ پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون غیر سفید فام مہاجرین کو غیر متوازن تناسب کے ساتھ بے دخل کر دے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ ملک میں ملازمتوں کے تحفظ کے لیے 60 روز کی عارضی مدت کے لیے امیگریشن پالیسی (مستقل قانونی رہایش کے منصوبے) کو معطل کیا جا رہا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں