ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وینزویلا کو ایندھن کی فراہمی پر تہران کو امریکی دھمکیاں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران اور وینزویلا کے درمیان تیل کے بدلے سونا کی بنیاد پر تعلق اعلانیہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ میں وینزویلا کے امور کے ذمے دار الیوٹ ابرامز نے کچھ عرصہ قبل بتایا تھا کہ ایران کراکس حکومت کو پیش کی جانے والی خدمات کے عوض سونا حاصل کرنے کے لیے طیاروں کو وینزویلا بھیج رہا ہے اور یہ طیارے وینزویلا کے تیل کے شعبے کے لیے لوازمات منتقل کر رہے ہیں، جس کے بدلے وہاں سے طیاروں میں سونا لاد کر ایران لایا جاتا ہے۔ تازہ پیش رفت میں امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدے دار نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جانب سے وینزویلا کو ایندھن کی کھیپ بھیجے جانے کے جواب میں اقدامات پر غور کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ درمیانی حجم کے ایک آئل ٹینکر کلیول نے بدھ کے روز نہر سوئز کو عبور کیا ہے اور اس ٹینکر پر ایرانی پرچم لہرا رہا ہے، جس نے مارچ کے اواخر میں ایران کی بندرگاہ بندر عباس سے ایندھن بھرا تھا۔ اسی حجم کے 4 دیگر بحری جہازوں پر بھی جن پر ایرانی پرچم لگا ہوا ہے، بندر عباس یا اس کے قریب سے ایندھن لادا گیا۔ یہ چاروں جہاز اٹلانٹک کو عبور کرنے کے قریب ہیں۔ معلومات کے مطابق ان میں سے کسی جہاز نے بھی اپنی حتمی منزل کا انکشاف نہیں کیا ہے ۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حزب اختلاف کے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود معلومات کے مطابق یہ پانچوں بحری جہاز وینزویلا جا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامہ کے سینئر عہدے دار نے بتایا کہ امریکا کو قوی یقین ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی حکومت ایندھن کے عوض ایران کو ادائیگی میں کئی ٹن سونا دے رہی ہے ۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے امریکی انتظامیہ کے موقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ایران اور وینزویلا کے درمیان تعلقات قانونی نوعیت کے ہیں اور یہ ایک معاہدے کے تحت ہیں۔ کسی بھی تیسرے ملک کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں