ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 6 برس بیت گئے

لاہور: قوموں کی تاریخ حادثات اور سانحات سے بھری پڑی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی ایسا ہی واقعہ ہے جو الم اورغم بھری داستان چھوڑ گیا مگر 6 سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ملزمان کے خلاف کارروائی اب تک عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون 2014 کو عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا لیکن پولیس اورپاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی) کے کارکنوں کے درمیان بات تلخ کلامی سے بڑھتی بڑھتی فائرنگ تک جا پہنچی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں گولیوں کا نشانہ بننے سے 2 خواتین سمیت 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 90 افراد زخمی ہوئےتھے۔ واقعے کے بعدڈاکٹر طاہرالقادری نے سابق وزیراعظم نواز شریف،سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز اوراس وقت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سمیت متعدد سیاستدانوں کو ملزم ٹھہرایا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے  اب تک 3 جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں بنائی گئیں جبکہ 2 ٹیموں نے اپنی اپنی رپورٹس جمع کروائیں مگر کیس کا تاحال کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں