نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی پولیس نے دارالحکومت نئی دہلی میں رواں برس ہونے والے مسلم کش فسادات کی چارج شیٹ عدالت میں جمع کرادی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں نے اُن کا مذہبی نعرہ لگانے سے انکار کرنے پر مسلمانوں پر حملہ کیا اور 9 افراد کو قتل کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 25فروری کو ’’کٹر ہندو ایکتا‘‘ کے نام سے انتہا پسند ہندوؤں نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا اور اِسی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے کے ساتھ ایک دوسرے کو افرادی قوت، ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کا بھی کہا گیا۔
ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں |
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- گوا نائٹ کلب آتشزدگی معاملہ: لوتھرا برادران کو خود سپردگی کی ہدایت، سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہائی کورٹ کا فیصلہ
- راہل گاندھی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی آر ایس ایس-بی جے پی کو دلت سماج جواب دے گا: راجندر پال گوتم
- ’مودی جی نے ایک ایسا منصوبہ لانچ کیا ہے جس میں عوام کے حصہ میں زہر اور اڈانی کے حصہ میں امرت آئے گا‘
- سعودی عرب سے نئی دہلی آ رہی ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ٹشو پیپر پر لکھا ملا ’بم‘، احمد آباد میں ہوئی ایمرجنسی لینڈنگ
- سون ندی آبی تقسیم پر بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان معاہدہ طے پایا، سورین-سمراٹ نے ایم او یو پر کیا دستخط