ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارت: کورونا کی آڑ میں 1000 اسکول برائے فروخت

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی حکومت نے کورونا وائرس کے دوران تعلیم دشمنی شروع کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق عالمی وبا کے باعث ملک شدید بحران کا شکار ہے۔ مودی سرکار عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ دیگر شعبوں کے ساتھ تعلیمی میدان شدید متاثر ہوا ہے اور ایک ہزار سے زائد اسکول بند کرکے فروخت کے لیے پیش کردیے گئے ہیں، تاہم بی جے پی کی تعلیم دشمن حکومت ان کے لیے معاونت کرنے کے بجائے رافیل طیارے خریدنے میں مصروف ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کورونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں کے جی تا بارہویں جماعت کے ایک ہزار سے زائد اسکولوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جس سے ملنے والی ایک ارب ڈالر کی رقم کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مودی سرکاری نے اسکول مالکان کو ترغیب دی ہے کہ وہ اپنی زمینیں بیچ کر رقم سے سرمایہ کاری کریں۔ میڈیا کے مطابق حکومتی پیش کش نجی اسکولوں کے لیے ہے ،جہاں ایک بچے کی سالانہ فیس 50 ہزار روپے ہے ۔ بھارت میں تقریباً 80 فیصد اسکول اسے درجے میں آتے ہیں۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے اسکولوں میں فیس وصولی کی حد مقرر کردی گئی ہے ،تاہم دیگر اخراجات کے ساتھ اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی ان کے لیے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکولوں کی انتظامیہ غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں میں 70 فیصد تک کٹوتی پر مجبور ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد 53 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ وائرس سے اب تک 85 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں