جیکب آباد (نمائندہ جسارت) سیپکو جیکب آباد کے ریونیو آفس میں رشوت کا بازار گرم، اضافی بلوں کی درستگی کے لیے چیف اور سپرنٹنڈنٹ آفس کے نام سے رشوت وصول کیے جانے کی شکایات۔ جیکب آباد سیپکو کے ریونیو آفس میں رشوت کا بازار گرم ہوگیا ہے، صارفین کے اضافی بلوں کی درستگی کے لیے ریونیو آفس کا عملہ چیف آفس سکھر اور سپرنٹنڈنٹ انجینئر لاڑکانہ آفس کے نام سے صارفین سے بھاری رشوت طلب کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اشوک کمار نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میرے گھر کے بل پر ڈیڈکشن لگائی گئی جس کی انکوائری سابق ایس ڈی او ریاض منگی نے بھی کروائی اور تسلیم کیا کہ بل اضافی ہے جس کی درستگی کے لیے آر او آفس کا کلر ک محمد علی شیخ پانچ ہزار رشوت طلب کررہا ہے، بل بھی دیں اور رشوت بھی دیں، اتنے پیسے کہاں سے لائیں، کئی ماہ سے سیپکو آفس کے چکر لگا رہا ہوں کوئی سنتا ہی نہیں۔ ایس ای محمد خان سوہی کی کھلی کچہری میں بھی شکایت کی لیکن کوئی ازالہ نہ ہوا۔ متاثرہ صارف اشوک کمار نے وزیر پانی و بجلی عمر ایوب، چیف سیپکو اور دیگر حکام سے نوٹس لے کر انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔