ٹنڈوالٰہیار (نمائندہ جسارت) گوٹھ حاجی محمد پلھ میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول زبوں حالی کا شکار، بچے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور، اسکول عمارت کی زبوں حالی کے سبب اسکول عمارت میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں، بچوں نے اسکول کی بحالی کے لیے احتجاجی مظاہر ہ بھی کیا گیا۔ سلطان آباد کے گوٹھ حاجی محمد پلھ جو کہ ایم این اے ذوالفقار ستار بچانی اور ایم پی اے امداد پتافی کا حلقہ بتایا جاتا ہے، مذکورہ گوٹھ میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول کی حالت انتہائی خستہ ہونے کے سبب چھت کا پلاستر گرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ محکمہ تعلیم کے افسران سمیت ضلعی انتظامیہ اور قومی و صوبائی اسمبلی ممبران کی چشم پوشی ملک و قوم کے معماروں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، کوئی بھی اس اسکول کی تباہ حالی کا نوٹس لینے کو تیار نہیں۔ مذکورہ اسکول کی زبوں حالی کی اطلاع ملنے پر نیشنل پریس کلب کی ٹیم نے اس کا دورہ کیا، جہاں پر اسکول کی چھت کو دیکھا تو سیمنٹ نہ ہونے کے سبب لوہا نظر آرہا تھا اور بچے اسکول عمارت میں پڑھنے کے بجائے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے تھے۔ مذکورہ اسکول میں 130 بچے زیر تعلیم ہیں، اس اسکول میں جہاں اسکول عمارت زبوں حالی کا شکار تھی، وہاں ہی 130 طلبہ کے لیے کوئی بھی سہولیات میسر نہیں تھی اس اسکول میں نہ واش روم تھا نہ بجلی کا نظام تھا اور نہ ہی فرنیچر موجود تھا اور محکمہ تعلیم کی جانب سے 130 کے لیے صرف ایک ہی استاد مقرر تھا۔ اسکول کے طلبہ نے میڈیا ٹیم کو اپنے درمیان پاکر خوشی کا اظہار کیا اور نااہل محکمہ تعلیم کے افسران کیخلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ملک و قوم کے معماروں کے لیے آنے والے فنڈ کو تو ہڑپ نہ کیا جائے اور ہمارے اسکول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ اسکول عمارت کو ازسر نو تعمیر کر کے تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسکول کے استاد نے بچے زیادہ ہونے کے سبب نجی طور پر ایک استاد بھی رکھا ہوا ہے جسے اپنی تنخواہ میں سے تنخواہ دیتے ہیں۔ اس موقع پر علاقے کے معززین امان اللہ پلھ، وڈیرومشتاق پلھ، غلام عباس پلھ، غلام نبی پلھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سروری جماعت کے پیروکار ہیں اور ہمیشہ پی پی کے امیدواروں کو اپنا ووٹ دے کر کامیاب کرایا ہے، اس کے باوجود موجود حکومت اور منتخب قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران سمیت ڈپٹی کمشنر اور محکمہ تعلیم کے افسران کی جانب سے ہمارے ساتھ اور اس ملک و قوم کے معماروں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے۔ ہم وزیر تعلیم سمیت وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسکول کی زبوں حالی کا نوٹس لے کر اسکول عمارت کو بچوں کی تعلیم کے لیے مرمت کراکر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہوسکے۔