ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عالمی وبا کے دوران عمررسیدہ لوگوں کےخلاف زیادتیوں میں اضافہ

سینیئر لوگوں کو پہلے سے امتیازی معاشرتی رویوں کا سامنا تھا لیکن کوویڈ نائنٹین کی عالمی وبا کے دوران ان کے خلاف تشدد، بدسلوکی اور نظرانداز کرنے جیسے ناروا رویوں میں اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عمر رسیدہ لوگوں کو ہیلتھ سنٹرز، ہوم کیئر سنٹرز اور حتّیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔

بزرگوں کے خلاف بد سلوکی سے آگاہی کے عالمی دن کی مناسبت سے اقوام متحدہ کی آزادانہ طور پر خدمات انجام دینے والی ماہر برائے انسانی حقوق کلاڈیا ماہلر نے کہا کہ انہیں دنیا کے مختلف حصوں سے پریشان کن رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ کس طرح عمر رسیدہ شہریوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی اور ان کے سماجی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے بزرگ شہریوں کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاونز کے اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کے باعث بزرگوں کی حفاظت کرنے والے عملے اور خاندان کے افراد کے ساتھ محصور بزرگ لوگ عام حالات کے مقابلے میں زیادہ صنفی تشدد اور بدسلوکی کا شکار رہے۔

کلاڈیا ماہلر نے کہا کہ بزرگوں کو درپیش مشکلات اور امتیازی رویوں کو بہتر کرنے کے لیے آواز بلند کرنے کے باوجود ان مسائل کے حل کی طرف توجہ نہ دی گئی۔

مثال کے طور پر کئی مقامات پر انسانی حقوق کی ماہر نے کہا کہ ہوم کیئرز کو کووڈ نائنٹین کی وجہ سے بزرگوں کی اموات ہونے کی صورت میں یا ان سے بدسلوکی کے متعلق انہں ذمہ دار ٹھہرانے یا ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے انہیں استثناء دیا گیا۔

یوں بہت سے مواقع پر بزرگوں کی شکایات کا ازالہ نہ ہو سکا۔

مراکش میں بزرگ شہری ویکسین لگوانے کے انتظار میں فروری 2021

مراکش میں بزرگ شہری ویکسین لگوانے کے انتظار میں فروری 2021

انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ ہونے سے لوگوں کے حقوق ختم نہیں ہوتے بلکہ انہیں انصاف کا حق حاصل ہے جس کی رو سے وہ عدالتوں سے برابری اور انصاف کے حصول کے لیے رجوع کرسکتے ہیں تاکہ ان کے حقوق کی پامالی کا مداوا کیا جاسکے۔

کلاڈیا ماہلر نے کہا کہ اس سلسلے میں اطلاعات تک عدم رسائی، بہت سے واقعات کے رپورٹ نہ ہونے سے اور عدم شفافیت کے باعث بزرگ شہریوں کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے کام کی راہ میں رکاوٹیں حائل رہیں۔

انہوں نے بزرگوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کا حصول یقینی بنانے کے لیے ملکوں میں قومی سطح پر قانون سازی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات سینیئر شہروں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے اور ان کی فیصلہ کرنے کے حقوق کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں