ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کراچی میں 1962 کے بعد ماہ ستمبر کی بدترین گرمی اور حبس

ملک بھر میں سرد موسم کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ دن میں کچھ گرمی اور شام میں
خوشگوار موسم ہونے لگا ہے لیکن کیا کریں کراچی کے شہریوں کا جن کے نصیب میں موسم
کی سختیاں ہی لکھی ہوئی ہیں۔

کہتے ہیں‌ ماحولیاتی تبدیلی کے مزید اثرات بھی آئندہ دیکھائی دیں‌ گے۔

ستمبر کا وسط ہو گیا لیکن اب بھی شدید گرمی نے شہریوں کا بے حال کر دیا ہے۔ ایسے میں کے
الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے آن آف نے مسائل اور بڑھا دیے ہیں۔

ماہ ستمبر کراچی والوں کے لیے ستمگر سے کم ثابت نہیں ہورہا ہے۔ اس مہینے میں گو کہ گرمی کی
شدت نسبتا کم ہوجایا کرتی ہے لیکن اس مرتبہ تاریخی گرمی نے سب کو پریشان کرکے رکھا ہوا ہے۔

درجہ حرات خواہ 31 ہو یا 38 لیکن جسم کو محسوس ہونے والی شدت 40 سے بھی آگے کا پتہ دیتی
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی کی کم نہ ہونے والی شدت دن میں سکون دیتی ہے اور نہ ہی رات میں چین
لینے دیتی ہے۔

صبح سویرے بھی درجہ حرات 31 اور گرمی کی شدت 37 نے لوگوں کو بے حال کیا ہوا ہے۔ سمندر کی
ہوائیں بھی شہریوں کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔

موسمی ریکارڈ کے مطابق بدھ جمعرات کی درمیانی شب ماہ ستمبر کی گرم ترین رات تھی اس سے
پہلے کراچی میں 11 ستمبر 1962ء اور 5ستمبر 2011ء کو درجہ حرارت 30.6 تھا۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے بھی شہریوں کے لیے کوئی تسلی و تشفی والی بات نہیں کہتے ہیں شہر
میں اگلے چند روز اور گرمی کی لہر جاری رہے گی۔

ایسی صورت حال میں پانی اور بجلی کے ستائے ہوئے شہریوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی ہے کہ
کم از کم اس دوران بجلی کی بلاتعطل روانی یقینی بنانے کے لیے کے الیکٹرک کو تو پابند کرایا
جاسکتا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں