شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسین تاتار نے کہا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ ترکی کے ضامن ملک ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ مل کر اپنے عوام، ریاست اور ریاستی اداروں کے کی خود ارادیت کے لیے برسوں اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں قبرص کی حقیقت کو اب دنیا کو قبول کرلینی چاہیے۔
ایرسن تاتار نے ان خیالات کا اظہار کل ترکی انقرہ پینٹنگ اینڈ سکلپچر میوزیم میں "یوریشیا سروسز ایوارڈز 2021” میں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ ترکی کے ضامن ملک ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ مل کر اپنے عوام، ریاست اور ریاستی اداروں کے کی خود ارادیت کے لیے برسوں اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں قبرص کی حقیقت کو اب دنیا کو قبول کرلینی چاہیے ورنہ
اس کے برعکس صورتِ حال میں 1974 سے پہلے کی واپسی (قبرص امن آپریشن) تنازعات ، تنازعات ، بدامنی اور ہنگامہ آرائی کو ہوا ملے گی۔
تاتار نے کہا کہ "میرا راستہ ہم سب کا راستہ ہے، میرا راستہ ترکی کاراستہ ہے، میرا راستہ ترک قبرصی عوام کی بقا، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے استحکام ، آزادانہ، اور باوقار طریقے سے ترکی کے ساتھ تعاون کا راستہ ہے۔
ایکو یوریشیا ایسوسی ایشن کے چیئرمین حکمت ایرن نے اس موقع پر کہا کہ وہ ترکی اور ترک دنیا کے درمیان اقتصادی ، ثقافتی اور سماجی تعاون اور دوستی کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور ترکی اس میدان میں اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
تقریروں کے بعد وہ ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی ۔ تاتار نے تقریب میں آذربائیجان کے تووز شہیدوں میں سے میجر جنرل پولات ہاشموف کی والدہ کو پھول اور شیلڈ پیش کی۔ ہاشموف 12 جولائی 2020 کو آرمینیائی باشندوں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوئے تھے۔