ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بس حادثہ، 22 افراد ہلاک

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع سدھنوتی میں بس گہری کھائی میں گرنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بھاٹہ کوٹ سے راول پنڈی جانے والی بس بلوچ کے مقام پر ایک پہاڑی سے گزر رہی تھی کہ اچانک بس کا ٹائی راڈ کھلنے کے باعث بس گہری کھائی میں جا گری۔

مقامی افراد کے مطابق دور دراز کا علاقہ ہونے کے باعث امدادی سرگرمیاں تاخیر سے شروع ہوئیں جس کی وجہ سے بس میں سوار کئی افراد ہلاک ہو گئے۔

بلوچ پولیس اسٹیشن کے محرر محمد طارق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک اسپتال میں 22 افراد کی لاشیں پہنچی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ بیشتر افراد موقعہ پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس حادثے کے مقام پر موجود ہے اور حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال سدھنوتی کے ڈاکٹر عقیل کا کہنا تھا کہ اب تک 22 افراد کی لاشیں اسپتال لائی گئی ہیں جب کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بعض شدید زخمیوں کو راول پنڈی منتقل کرنے کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔

مقامی صحافی شمشاد نظامی کے مطابق مرنے والوں میں ایک خاندان کے پانچ افراد اور ایک خاندان کے تین افراد شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ حادثہ بس کا ٹائی راڈ کھلنے کے باعث پیش آیا، جس کے بعد ڈرائیور نے ایک پتھر سے بس ٹکرا کر روکنے کی کوشش کی لیکن رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے گاڑی الٹ گئی اور نو سو فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کے شدید زخمیوں کو فی الحال کوٹلی اسپتال ریفر کیا گیا ہے جب کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سڑکوں پر ماضی میں بھی بڑے حادثات ہوتے رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی ابتر حالت بتائی جاتی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں