حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان کے جشن الماسی(ڈائمنڈ جوبلی) کے موقع پر سماجی تنظیم تحریکِ ادب و ثقافت نے لطیف آباد میں نثار احمد صدیقی ٹریننگ اکیڈمی کی’’ نثار دانش گاہ ‘‘میں تقریب ’’جشنِ لطیفؒ ‘‘ کا انعقاد کیا جس میں تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول مقبولﷺ پڑھنے کی سعادت معروف قاری و نعت خواںحسان خلیق نے حاصل کی اور شاہ عبدالطیف بھٹائی ؒ کے کلام ’’ اول ،اعلی، علیم ‘‘کا اُردو ترجمہ انسب قریشی نے اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کر سنایا۔محفل میں نظامت کے فرائض انسب قریشی ، پروفیسر شفیق الرحمن اور عمران نور نے ادا کیے۔ بزم جشنِ لطیفؒ تین نشستوں پر مشتمل تھی جس کی نشست اول مکالمے کی تھی جس کے صدر چیئرمین سندھی لینگویج اتھارٹی ڈاکٹر محمد علی مانجھی اور مہمانِ خصوصی معروف ادیب کرن سنگھ(کراچی) جبکہ مہمانانِ اعزازی پروفیسر فیاض لطیف، پروفیسر حسین صمدانی، فہیم نوناری اور عشرت علی خان تھے جنہوں نے عظیم صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوں پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر کے حاضرینِ محفل کو اہم معلومات سے آگاہ کیا۔تقریب کی نشست دوم میںخان عامر علی نے شاہ صاحب ؒکی ’’وائی‘‘ بہترین انداز میں سنا کر شُرکا محفل سے خوب داد وصول کی۔محفل کی نشست سوم مشاعر ے کی تھی جس کی نظامت شاعر احمد عمران اویسی نے کی ۔مشاعرے کے صدر معروف شاعر مرزا عاصی اختر (میرپور خاص) تھے اس کے علاوہ مصطفی تبسم اور کامران اشرف (ٹنڈو آدم) ، حبیب الرحمن چوہان (میرپورخاص) ، تقی راجپوت (ہوسڑی) سمیت حیدرآباد سے معروف شُعرا نیر صدیقی، یونس عظیم ، ظہیر شمس اور شکیل فیروز آبادی اپنے اپنے خوب صورت کلام پیش کر کے سامعین کی مبارک باد کے حق دار ٹہرے ۔ اس بزم میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور تحریکِ ادب و ثقافت کے صدر عمران نور و اراکین کو ’’ جشنِ لطیفؒ ‘‘ شاندار انداز سے منانے پر زبردست مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر تقریب میں شریک مہمانوں کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک بھی پیش کیا گیا۔