ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا سفید فام نسل پرست قاتل رہا

وسکانسن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت نے 2 مظاہرین کے قتل کے الزام میں گرفتار سفید فام ملزم کو بری کر دیا۔سفید فام امریکی شہری کائلی رٹن ہاؤس نے 25 اگست 2020ء کو کنوشا میں نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیا تھا۔کائلی رٹن ہاؤس نے عدالت میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین سے جان کا خطرہ تھا اور اس نے اپنے تحفظ میں گولی چلائی تھی۔ امریکی عدالت کی 12 رکنی جیوری نے 25 گھنٹے غور کے بعد کائلی رٹن ہاؤس کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا، جس پر سیاہ فام کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔کئی ڈیموکریٹ ارکان نے فیصلے کو عدالت کی بے ضمیری قرار دیا ہے، جب کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ فیصلے سے مجھ سمیت کئی امریکیوں کو غصہ اور تشویش ہوگی، مگر لوگوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اب جیوری فیصلہ سنا چکی ہے۔ڈیموکریٹ ارکان کانگریس نے عدالت کے فیصلے کو سفید فاموں کے غلبے کی جانب ایک قدم قرار دے دیا۔کوری بش کا کہنا تھا کہ انصاف کا نظام ایسا ہے کہ سفید فام انتہا پسند آزاد گھومیں اور سیاہ فام پنجروں میں قید رہیں۔ جب کہ کانگریس مین ایڈریانو کا کہنا تھا کہ انصاف ہونے سے روکنے کے لیے سفید آنسو ہی کافی ہیں، ایک اور قاتل کو آزاد کیا گیا، امریکی نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔اکثر ری پبلکن ارکان کانگریس کی جانب سے کائلی رٹن ہاؤس سے متعلق عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔کانگریس مین ٹیلر گرینی کا کہنا ہے کہ تحفظ کرنے والے اچھے ہوتے ہیں اور کائلی بھی اچھا لڑکا ہے جب کہ ری پبلکن کانگریس مین گائٹز نے کہا کہ کائلی کانگریس میں انٹرن شپ ملنے کا حقدار ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں