پارلیمنٹ کی ذیلی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے قومی احتساب بیورو کے پرنسپل اکائونٹنگ افسر کے اجلاس میں نہ آنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں 29نومبر کو دوبارہ طلب کر لیا، کنوینر کمیٹی نور عالم خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر چیئرمین نیب یہاں نہیں آناچاہتے تو انہیںکہیں استعفیٰ دیں،ہر ایک سیاستدان چور نہیں ہوتا اور ہر ایک ان سے ڈرتا نہیں ہے، سو مرتبہ آپ مجھے نااہل کر دیں ،چور میںنہیں ہوں، چوری میں نے نہیں کی ،نیب سے میں کیوں ڈروں ،جو بے گناہ کو آپ(نیب والے) پکڑ لیتے ہیں ان سے عوام کے سامنے معافی مانگتے ہیں ؟ یہ میٹنگ پیٹھ پیچھے کینسل ہو جاتی ہے آپ (نیب)کے اتنے اختیارات ہیں نیب سے لوگ اتنے ڈرتے ہیں، پرنسپل اکائونٹنگ افسر کو آنا پڑے گا ، نہیں آتے تو اگلی مرتبہ میں قانونی اختیارات استعمال کروں گا ۔پیر کو پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینرکمیٹی نور عالم خان کی صدارت میں ہوا ، اجلاس میں قومی احتساب بیورو سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا جانا تھا تاہم نیب کے پرنسپل اکائونٹنگ افسر (چیئرمین نیب) اجلاس میں نہ آئے جس پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ، کنوینر کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح چیئرمین نیب نہیں آئے، ہر ایک سیاستدان چور نہیں ہوتا اور ہر ایک ان سے ڈرتا نہیں ہے ، رکن کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ کس قسم کا رویہ ہے ،یہ توہین پارلیمنٹ ہے ، رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ غیر سنجیدگی ہے ، نور عالم خان نے نیب حکام سے کہا کہ جیسے ہم آپ کے حکم پر آپ کے پاس پہنچتے ہیں، 1860سے 2021کا ریکارڈفراہم کرتے ہیں تو آپ کو بھی آنا چاہیے،نور عالم خان نے کہا کہ جو کرپٹ ہوتے ہیں ان کو تو آپ سزا دیتے ہیں جو بے گناہ کو آپ پکڑ لیتے ہیں، ان سے کوئی سر عام معافی مانگتے ہیں ؟سو مرتبہ آپ مجھے نااہل کر دیں ،چور میںنہیں ہوں، چوری میں نے نہیں کی آپ سے میں کیوں ڈروں ،رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اگر نیب خود اپنے فرائض سے غفلت کرے گا تو یہ ملک کدھر جائے گا ، ان کو آنا چاہیئے تھا،نور عالم خان نے کہا کہ میں خود چیئرمین نیب کے پاس گیا ہوں میں نے کہا تھا ہم آپ پر ذاتی حملے نہیں کریں گے، آپ نے آنا ہے ،کنوینر کمیٹی نے نیب حکام سے کہا کہ آپ 29 تاریخ کو آئیں گے، پرنسپل اکائونٹنگ افسر آجائے ، جس پرنیب حکام نے کہا کہ کچھ دن آگے کردیں ،نور عالم خان نے کہا کہ دو سال انتظار کیا ہے یہ میٹنگ پیٹھ پیچھے کینسل ہو جاتی ہے آپ کے اتنے اختیارات ہیں ،آپ سے لوگ اتنے ڈرتے ہیں ، نور عالم خان نے کہا کہ پرنسپل اکائونٹنگ افسر کو آنا پڑے گا ، نہیں آتے تو اگلی مرتبہ میں قانونی اختیارات استعمال کروں گا ،کمیٹی نے نیب کے پرنسپل اکائونٹنگ افسر کو 29نومبر کو طلب کرلیا، اجلاس میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا ،کنوینر کمیٹی نے چیئرمین این ڈی ایم اے کے اجلاس میں آنے پر ان کی تعریف کرتے ہوئے نیب حکام سے کہا کہ انہیں( چیئرمین نیب) کو کہیں استعفیٰ دیں اگر وہ یہاں نہیں آناچاہتے۔
