صوفیا (انٹرنیشنل ڈیسک) بلغاریا میں ترکی کے شہر استنبول سے آنے والی سیاحوں کی بس میں آگ لگنے سے 46افراد ہلاک ہو گئے۔ سیاحوں کی بس شمالی مقدونیا جارہی تھی کہ دارالحکومت صوفیا سے 30کلومیٹر دور حادثے کا شکار ہوگئی۔ مسافر تاریخی ترک شہر استنبول سے واپس جارہے تھے۔ افسوس ناک واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں 12بچے بھی شامل ہیں۔ بلغاریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر سڑک پر رکھی رکاوٹ حادثے کا باعث بنی۔ حادثے کی کسی ٹھوس وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جلتی بس سے چھلانگ لگا کر زندہ بچ جانے والے 7افراد کو بلغاریاکے دارالحکومت صوفیاکے اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ بس استنبول سے 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرچکی تھی اور اس کی منزل شمالی مقدونیاکا دارالحکومت اسکوپیے تھا۔ ادھر بلغاریاکی وزارتِ داخلہ نے اپنے ملک میں بس میں آگ لگنے اور ہلاکتوں کو سب سے بڑا حادثہ قرار دیا ہے۔ بس میں اسکوپیے کے اسماعیل کیمالی ایلیمنٹری اسکول کے بچے اپنے والدین کے ساتھ سوار تھے۔ شمالی مقدونیاکے نائب وزیر اعظم زوران زائیف نے حادثے میں 46افراد کی ہلاکت کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ واقعے کے بعد وہ بھی حادثے کے مقام پر پہنچ گئے تھے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت کی۔ البانیہ کے وزیر خارجہ اولتا ہاؤکا نے بھی حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ بلغاریاکے عبوری نائب وزیر داخلہ بوئکو رشکوف کا کہنا ہے کہ بس کے اندر موجود تمام افراد کی لاشیں جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں زخمی 7 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔