ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اے سی کبیروالا اور چئیرمین میونسپل کمیٹی آمنے سامنے.

اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا اور چئیرمین میونسپل کمیٹی میں ٹھن گئی, تاجروں کا لاکھوں روپے نقصان ہڑتال کی دھمکی. تفصیلات کے مطابق تحصیل ہیڈ کوارٹر سٹی کبیروالا میں بلدیہ کے سابقہ دفتر والی جگہ پر چوک کھُلا کرنے کی غرض سے فرنٹ کے آٹھ دکانداروں کو دکانیں الاٹ کی گئیں جس کیلئے چئیرمین میونسپل کمیٹی اطہر یوسف خان بھٹہ نے کمیٹی کے اجلاس عام میں قرارداد پیش کی اسے منظور کیا گیا پھر دکانوں کی پیمائش کے مطابق جگہ کی نشاندہی کر کے تعمیر کیلئے کہا گیا یہ دکانیں گزشتہ پندرہ دن سے تعمیر ہو رہی تھیں آج اچانک اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا خرم حمید نے ان کو غیرقانونی تعمیرات قرار دیتے ہوئے گرا دیا جس کیلئے انھوں نے پرائیویٹ مشینری منگوائی ہوئی تھی.

اسسٹنٹ کمشنر خرم حمید کا مؤقف ہے کہ اس جگہ پر انتظامیہ ہر سال رمضان بازار لگاتی ہے اور یہ ایک کنال جگہ آبادی دیہہ میں شامل سرکاری ملکیت ہے اس پر چیئرمین میونسپل کمیٹی کو تعمیرات کا کوئی حق نہیں اس لئے میں نے ریونیو آفیسر کے ذریعے سرکاری جگہ کا قبضہ وا گزار کرایا ہے دوسری طرف دکانیں گرائے جانے پر جب تاجروں نے چئیرمین میونسپل کمیٹی اطہر یوسف خان بھٹہ سے رابطہ کیا تو انھوں نے اسسٹنٹ کمشنر کی کارروائی کو غیرقانونی قرار دیا اور کہا یہ دکانیں ہر صورت تعمیر ہونگی کیونکہ چوک کی کشادگی شہری سہولیات کےلیے ضروری ہو چکا ہے جہاں تک جگہ کی ملکیت کا تعلق ہے تو جان لیں کہ یہ جگہ 1960سے بلدیہ کی مقبوضہ ملکیت ہے یہاں پہلے بلدیہ کا دفتر تھا.

انجمن تاجران کبیروالا کے صدر شیخ راشد ندیم نے کہا کہ چوک کے آٹھ تاجروں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے چیئرمین میونسپل کمیٹی کی طرف سے انہیں کہا گیا آپ دکانیں فرنٹ سے ہٹاکر پیچھےتعمیر کر لو جب انھوں نے 80فیصد تعمیر مکمل کر لی تو اچانک اسسٹنٹ کمشنر نے انہیں غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا سوال یہ ہے متاثرہ دکانداروں کا لاکھوں روپے کا جو نقصان ہوا ہے اس کا کون ذمہ دار ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ نقصان پورا کیا جائے ورنہ انتظامیہ کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کر کے احتجاج کیا جائے گا

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں