ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گوادر دھرنے میں تقریر کرنے پر عوامی ورکرز پارٹی کے صدر یوسف مستی خان گرفتار، بغاوت کا مقدمہ درج

عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ یوسف مستی خان کو گوادر دھرنے میں تقریر کے بعد گرفتار کر لیا گیا، ان پر درج ہونے والے مقدمے میں بغاوت کی دفعات لگائی گئی ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی یوسف مستی خان گزشتہ روز بدھ کو گوادر دھرنے میں پہنچے تھے وہاں عوام کی کثیر تعداد نے ان کا والیانہ انداز میں خیرمقدم کیا۔ انہوں نے گوادر میں گزشتہ 29 دنوں سے احتجاج کرنے والے مردوں اور خواتین  سے خطاب کیا اور ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔

ان کی تقریر کے بعد گوادر پولیس نے جمعرات کے روز ان کے خلاف بغاوت اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا اور مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی عدالت نے انہیں پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔

دوسری جانب عوامی ورکرز پارٹی نے پارٹی صدر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اختر حسین ایڈووکیٹ، ڈپٹی سیکریٹری عصمت شاہجہان، آرگنائزنگ سیکریٹری جاوید اختر، سندھ کے صدر بخشل تھلہو، خیبر پختونخواہ کے صدر اخونزادہ حیدر زمان، بلوچستان کے صدر یوسف کاکڑ، سرائیکی وسیب کے صدر فرحت عباس، پنجاب کے صدر عمار رشید، گلگت بلتستان کے رہنما بابا جان، جموکشمیر کے چیرمین نثار شاہ ایڈووکیٹ، پنجاب کے سابق صدر ڈاکڑ عاصم سجاد اور دیگر رہنماوں نے اپنی پارٹی کے صدر جو کی علیل ہیں کی غیر قانونی گرفتاری کی شدید مذمت کی اور کیا کہ یوسف مستی خان کی گرفتاری حکومت کی بوکھلاہٹ کوعیاں کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دوغلی حکومت اور اسٹبلشمینٹ بلوچستان کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے ان کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔

ان رہنماوں نے مزید کہا کہ گوادر کی خواتین کی تاریخی مزاحمت سے خوفزدہ ہو کر انتظامیہ اوچھے ہتھکنڈوں پہ اتر آئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بزرگ سیاستدان یوسف مستی خان کینسر کے مرض میں مبتلا ہے اور انہیں ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لئے جائیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں