امریکہ میں موجود ایک تھنک ٹینک نے موسم سرما میں 10 لاکھ افغان بچوں کے بھوک سے مرنے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان پر پابندیوں میں نرمی کرے تاکہ ریاستی ناکامی اور بڑے پیمانے پر فاقہ کشی سے بچا جاسکے۔
بین الاقوامی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں ریاست کی ناکامی اور بڑے پیمانے پر بھوک سے بچنے کیلئے بین الاقوامی طاقتوں کو پابندیوں میں نرمی کرنی چاہیے۔ تھینک ٹینک نے متنبہ کیا کہ طالبان کے قبضے کے نتیجے میں بھوک اور بدحالی گزشتہ دو دہائیوں کے تمام بموں اور گولیوں سے زیادہ لوگوں کو مار سکتی ہے۔
آئی سی جی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مدد نہ کی گئی تو اس موسم سرما میں 10 لاکھ تک افغان بچے بھوک سے مرسکتے ہیں، تھنک ٹینک نے امریکہ، یورپ اور دیگرعطیہ دینے والے ممالک پرزور دیا کہ وہ طالبان حکومت کی توثیق کیے بغیر افغانستان کو تباہ ہونے سے روکنے کے طریقے تلاش کریں۔دیگر امدادی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ افغانستان کو صرف انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنا بہترین طور پر ایک بینڈ ایڈ کی طرح تھا اور یہ کہ افغانستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات افغان ریاست کے خاتمے کو روکنے کے لیے ضروری تھے۔
