اسلام آباد ( میاں منیر احمد) سیاسی اور جمہوری رشتے کمزور پڑ جائیں تو قومی یکجہتی دائو پر لگ جاتی ہے ‘ آج پھر سانحہ سقوط ڈھاکا اور آرمی پبلک اسکول کے زخم تازہ ہوگئے‘ قومی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانا ہوگا ‘بھارت بلوچستان ودیگر علاقوں میںدہشت گردی کرا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر برائے اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز کے صدر زاہد قریشی، سابق صدر رانا محمد ایاز، سابق نائب صدر مدثر چودھری‘ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے اسلام آباد آفس کے رابطہ کار مرزا عبد الرحمن، سابق نائب صدر سجاد سرور، ایگزیکٹو ممبر عمران شبیر عباسی‘ مسلم کانفرنس کے رہنما سردار محمد عثمان خان‘ مسلم لیگ (ج) کے صدر محمد اقبال ڈار،کشمیر کے لیے ریسرچ ادارے آئی آئی ایس ایس آر کے ڈائریکٹر جنرل جاوید الرحمن ترابی‘ فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما اسرار الحق مشوانی اور تحریک اسلام آباد کے صدر ملک جاوید اکرم نے جسارت اسلام آباد کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ زاہد قریشی نے کہا کہ آج سے50 سال قبل 16 دسمبر کا بدنصیب و سیاہ دن 71ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران مکتی باہنی کی گھنائونی سازشوں سے پاکستان کے دولخت ہونے پر منتج ہوا اور ہمیں مشرقی پاکستان میں جنرل اے اے کے نیازی کی زیرکمان پاک فوج کے سرنڈر ہونے اور بھارتی فوجی جنرل اروڑہ کے آگے ہتھیار ڈالنے کی انتہائی تکلیف دہ ہزیمت بھی اٹھانی پڑی‘ یہ ہماری قومی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے جو ملک کی سلامتی کے تحفظ و دفاع کے حوالے سے ہماری حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادت سے آئندہ ایسی کسی غلطی کا اعادہ نہ ہونے دینے کا ہمہ وقت متقاضی رہتا ہے۔مرزا عبد الرحمن نے کہا کہ بے شک اس ہزیمت اور شکست خوردگی کے ماحول میں بھی اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کے لیے ملک کو ایٹمی قوت سے سرفراز کرنے کی کوششوں کا آغاز کرکے قوم کی مایوسی کا ازالہ کیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کامیاب سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کے تحت جنگی قیدی بنے ‘95 ہزار فوجی اہلکاروں اور سویلین کو دشمن کے تسلط سے آزاد کرایا اور اس کے زیر قبضہ موجودہ پاکستان کے علاقے بھی چھڑوائے‘ قومی قیادت نے ملک کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرکے عملی طور پر ملک کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا۔سجاد سرور نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مکتی باہنی کے متشدد رکن ہونے کے ناطے پاکستان دشمنی کا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں‘ وہ اپنی سازشوں کے ذریعے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی پھیلا کر اسے انتشار کا شکار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ رانا محمد ایاز نے کہا کہ16دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں بھی بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی منظم واردات کی گئی جس کی یاد آج بھی قوم کو خون کے آنسو رلاتی ہے۔ عمران شبیر عباسی نے کہا کہ آج سانحہ سقوط ڈھاکا اور سانحہ اے پی ایس کی کربناک یاد کو تازہ کرتے ہوئے ہمیں ملک کی سلامتی کے لیے زیادہ فکرمند ہونا ہے‘ اس کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کا دفاع وطن کے لیے مکمل یکجا ہونا بہت ضروری ہے‘ آج بدقسمتی سے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی اس نہج پر جا پہنچی ہے کہ قومی ریاستی اداروں کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے‘ جو دشمن کو کھل کر اپنی سازشوں کی تکمیل کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے جبکہ آج ملک کی سلامتی کے لیے متفکر ہونے کی زیادہ ضرورت ہے۔ سردار محمد عثمان خان نے کہا کہ ہمیں آج 16 دسمبر کے دونوں قومی سانحات کو مدنظر رکھ کر اپنی سلامتی ناقابل تسخیر بنانے کی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔محمد اقبال ڈار نے کہا کہ قائد اعظم کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان واحد سیاسی رشتہ کمزور پڑگیا اور مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں انتخابات ہار گئی‘ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب سیاسی اور جمہوری رشتے کمزور پڑ جائیں تو اتحاد اور قومی یکجہتی دائو پر لگ جاتی ہے۔ طاہر آرائیں نے کہا کہ غلام محمد نے اپنے اقتدار کے لیے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو ختم کر کے اور دستور ساز اسمبلی کو توڑ کر بنگالیوں کو مایوس کیا‘ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے 3 وزیراعظم برطرف کیے گئے‘ جنرل ایوب خان اور سکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کر کے مشرقی اور مغربی پاکستان کے رہے سہے سیاسی اور جمہوری رشتے پر کاری ضرب لگائی۔ مغربی پاکستان کی مقتدر اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کو اپنی کالونی سمجھ کر عوام کا معاشی استحصال کیا ۔ مدثر چودھری نے کہا کہ حسینہ واجد نے شیخ مجیب الرحمٰن کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ مجیب الرحمن نے بنگلادیش کی آزادی کے لیے ایک خفیہ تنظیم قائم کر رکھی تھی۔ جاوید الرحمن ترابی نے کہا کہ سقوط ڈھاکا کی مرکزی ذمے داری جنرل یحییٰ خان پر عاید ہوتی ہے جو کامل اختیارات کے مالک تھے۔ اسرار الحق مشوانی نے کہا کہ 16 دسمبر پاکستان کے لیے ایک سیاہ اور خون آلود دن بھی ہے جب دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے اساتذہ اور عملے سمیت 144 معصوم بچوں کو قتل کر دیا۔ ملک جاوید اکرم نے کہا کہ سقوط ڈھاکا کا سبق یہ ہے کہ سماجی انصاف اور جمہوریت سے ہی ریاست کو متحد رکھا جا سکتا ہے۔