اسلام آباد/ لاہور(نمائندگان جسارت) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک مذاکرے میں طلبہ یونینز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ یونینز کے انتخابات کے لیے کوئی قانونی، آئینی رکاوٹ نہیں ہے۔ حکومت چاہے تو یونینز بحال ہو سکتی ہیں جس کے لیے ایک انتظامی حکم کی ضرورت ہے۔یہ انتظامی حکم فیڈرل گورنمنٹ بھی دے سکتی ہے اور صوبائی حکومتیں بھی۔امیر العظیم نے کہا کہ طلبہ یونینز پر پابندی کے باعث تعلیم کے دروازے آہستہ آہستہ غریب لوگوں کے لیے بند ہوتے جا رہے
ہیں۔ ہر پرائیویٹ، سرکاری یونیورسٹی میں فیسیں آسمان کی بلندی پر پرواز کر رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ جس ملک میں ایم بی بی ایس 70،80 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے اور کسی بھی ماسٹر سمسٹر پروگرام کی فیس ایک لاکھ روپے سے کم نہ ہو وہاں تعلیم صرف امیروں کے لیے باقی رہ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آج طلبہ یونیز بحال ہوتیں تو طلبہ کی سرگرمیوں کے لیے آڈیٹوریمز بنتے، یونیورسٹیوں میں ہاسٹلز بنتے اور تعلیمی معاملات میں مہنگائی کا اسی طرح سے اثر نہ ہوتا۔ طلبہ یونینز کی بدولت ہمارے قومی سطح کے لیڈر بھی پیدا ہوتے ہیں جو سیاسی جماعتوں میں ایک نئی طاقت اور نئی امنگ کا سبب بنتے ہیں۔ طلبہ تنظیموں سے نکلے ہوئے افراد جو مختلف سیاسی جماعتوں کے اندر موجودہیں ان کی کارکردگی بڑے بڑے سیاست دانوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ سیاسی جماعتوں میں بے پناہ مسائل کے باوجود ان جماعتوں کے وہ رہنما جو ماضی میں طلبہ یونینز کا حصہ رہے نے اپنی عزت اور وقار کو بحال رکھا ہوا ہے۔ دریں اثنا امیر العظیم نے سابق بیوروکریٹ اخوت فائونڈیشن کے ڈائریکٹر سلیم رانجھا سے ان کے والد میاں اکرم رانجھا کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کے لیے بلندی درجات کی دعا کی۔