ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا میری کرسمس کہنا جائز ہے یا ناجائز؟ مولانا طاہر اشرفی نے اہم بیان دے کر معاملہ ہی ختم کردیا

معاون خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے پاکستان میں جاری یہ بحث کہ کیا میری کرسمس کہنا جائز ہے یا ناجائز؟ اس پر اہم بیان جاری کرتے ہوئے اس معاملے کا تصفیہ کر دیا ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم گذشتہ اکتالیس سال سے حالت جنگ میں ہیں۔ پاکستان میں جو متشدد رویے پیدا ہو چکے ہیں، ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ یہ رویے مولوی حضرات کے پیدا کردہ نہیں ہیں، جسے ہم ہر وقت کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم سے غلطیاں نہیں ہوئیں۔ سیاسی اور مذہبی رہنمائوں جبکہ میڈیا سے وابستہ لوگوں سمیت ہر کسی سے غلطیاں سرزد ہوئیں، ہم معصوم نہیں ہیں۔ غلطیوں سے سیکھنا اور اپنی اصلاح کرنا ہی اللہ کا بندہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قیام اس لئے ہوا تھا کیونکہ اس کو مدینہ منورہ کی طرح ایک فلاحی ریاست بننا ہے۔ وہ ریاست جہاں پر کوئی کسی اقلیت پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ جہاں اکثریت سے زیادہ اقلیتوں کے حقوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے مواحد کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی کی تو اس کی طرف سے قیامت کے روز میں پیش ہوں گا۔ ان کا کہنا ایک ہمارے ہاں مواحد وہ مظلوم سری لنکن بھی تھا جسے ان لوگوں نے مار دیا جنھیں ٹھیک طرح سے کلمہ بھی پڑھنا نہیں آتا تھا۔ مجھے جواب دیا جائے کہ کیا ان لوگوں کو جوابدہ نہیں ہونا پڑے گا؟

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جب ولادت کا ہم اعتراف کر لیتے ہیں تو پھر ان کی عبدیت کا بھی اعتراف ہو جاتا ہے۔ تو کیا حضرت عیسیٰ پر ہمارا ایمان نہیں ہے؟ اگر ہم ان پر ایمان نہ لائیں تو ہم مسلمان ہی نہیں ہو سکتے۔ ان کی پیدائش کے موقع پر کسی کو مبارک دینا کوئی جرم نہیں ہے لیکن اس معاملے کو بھی غلط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں