ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیوزی لینڈ نے خاتون صحافی کو ملک واپس آنے کی اجازت دیدی

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی حکومت نے افغانستان میں پھنسی خاتون صحافی شارلٹ بیلس کو ملک واپس آنے کی اجازت دے دی ہے۔نیوزی لینڈ حکومت کے مطابق خاتون صحافی کے لیے قرنطینہ کا انتظام کر لیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی حکومت نے پینتیس سالہ شارلٹ کی وطن واپس آنے کی درخواست کورونا پابندیوں کے باعث مسترد کر دی تھی۔ جس کے بعد خاتون رپورٹر کو طالبان نے پناہ دی۔

نیوزی لینڈ کے ڈپٹی وزیر اعظم گرانٹ روبرٹسن نے اس تاثر کو رد کیا کہ حکومت نے اس معاملے پر توجہ صرف اس لیے دی کیونکہ سوشل میڈیا پر اس کیس کے حوالے سے ان کی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔نیوزی لینڈ میں حکومت کے کووڈ رسپانس کے وزیر کرس ہپکنز کا کہنا ہے کہ شارلٹ جیسے لوگوں کے لیے خاص حالات میں استثنی کی اجازت ہے۔

واضح رہے کہ خاتون صحافی نے اپنے اخبار میں ایک طویل اداریہ شائع کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے مسائل کے بارے میں آ گاہ کیا اور بتایا کہ ان کا اپنا ملک ان کی مدد نہیں کر رہا۔انہوں نے بتایا کہ وہ ستمبر میں افغانستان سے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچیں تھیں جب انہیںاپنے حاملہ ہونے کا معلوم ہوا۔ لیکن وہ اس صورتحال میں قطر نہیں رہ سکتی تھیں، اس لیے انہیں افغان طالبانوں سے مدد طلب کرنی پڑی۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کیونکہ کیوی حکومت نے کورونا کی وجہ سے اپنے ملک کے دروازے بند کر دئیے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں