محسن جمیل بیگ کے معاملے پر ابھی گرما گرم بحث چل ہی رہی ہے مگر ساتھ ہی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے شنید دی ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر نئی قدغنیں لگانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس حوالے سے بہت جلد قانون کابینہ کو بھجوا دیا جائے گا جس کا مطلب واضح طور پر آزادی اظہار رائے کا گلہ گھوٹنا ہے۔ تاہم یہ بات دلچسپ ہے کہ آج تحریک انصاف کو جس سوشل میڈیا سے خطرہ ہے اسی سوشل میڈیا کو استعمال کر کے تحریک انصاف کے سربراہ نے کئی لوگوں کی پگڑیاں اچھالی تھیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے مگر کچھ دنوں سے عمران خان اپنی ناکام پالیسیز کی وجہ سے سوشل میڈیا پرشدید تنقید کی ذد میں ہیں جو شاید ان کی برداشت سے باہر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جس طرح کا سلوک محسن بیگ کے ساتھ کیا گیا اس طرح کا سلوک کا خوف دیگر صحافیوں کو بھی ہے اور معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ملک سے باہر چلے جائیں ورنہ گرفتار کرلیا جائے گا۔ ہم کیوں جائیں ملک سے، کیا ہم بھگوڑے ہیں؟ آؤ ہمت ہے تو ہمیں گرفتار کرو۔ کیا کتاب کا حوالہ دینا جرم ہے۔ گذشتہ روز صحافیوں کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ میرے جس پروگرام کو بنیاد بنا کر محسن جمیل بیگ کیساتھ ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہ ریاست مدینہ ہے یا بنانا ری پبلک جہاں جب چاہتے ہیں صحافیوں تک کو اٹھا لیا جاتا ہے۔غریدہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا جا رہا ہے کہ آپ کو بھی گرفتار کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ آپ یا تو شہر سے باہر چلی جائیں، یا کوشش کرکے ملک چھوڑ دیں۔سینئر اینکرپرسن کا کہنا تھا کہ ہم آخر کیوں اس ملک سے باہر جائیں، کیا ہم کوئی بھگوڑے ہیں۔ ہم کوئی آپ کی طرح ڈرتے ہیں۔ ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے ریاست اور اس کے قوانین کو فالو کرینگے۔
حکومت نے ایف آئی اے کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاسی تبصروں میں ’بدکلامی‘ کرنا منع ہے لیکن منڈی بہاؤالدین میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سنی جائے تو اس میں مخالفین کے خلاف سخت ترین نازیبا الفاظ اور رائے کے سوا کچھ سننے کو نہیں ملے گا۔ اگر عمران خان یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جس شخص کے ہاتھ میں اقتدار ہے، اس کے سارے قصور معاف ہیں تو انہیں جاننا چاہئے کہ جمہوریت میں ایسے دو معیارات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عمران خان انصاف کا نام ضرور لیتے ہیں لیکن ان کی لغت میں انصاف کی تعریف یہی ہے کہ ملکی عدالتی نظام ان کے کہنے پر تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کردے۔ پاکستانی عوام کی قابل ذکر تعداد کو انہوں نے اس نعرے کے ذریعے سیاسی چنگل میں پھنسایا تھا ۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں ان کی خود ساختہ تصویر ماند پڑ چکی ہے لیکن وہ جوش خطابت سے کسی بھی طرح اسے چمکا کر ایک بار پھر وہی منجن بیچنا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح اپنی سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈال سکیں۔ عمران خان سیاسی طور سے ناکام ہو چکے ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے علاوہ کوئی ملکی معیشت کے بارے میں خوش گمان نہیں ہے لیکن تقریر کی حد تک عمران خان ملک میں دولت کے انبار جمع ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ منڈی بہاؤالدین جیسے چھوٹے قصبے میں لوگوں کو جمع کروا کے یہ بتا رہے ہیں کہ ان کے دور میں ملکی دولت میں اضافہ ہؤا ہے۔ کیوں کہ بطور مقرر انہیں دلیل کی نہیں لوگوں کو چکنی چپڑی باتوں سے گمراہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب سیاسی مخالفین کو نازیبا ناموں سے پکار کر اور 2023 کا انتخاب جیت کر سب کو جیلوں میں بند کرنے کی دھمکیاں دے کر وہ اپنا دل تو خوش کرسکتے ہیں لیکن معروضی حالات ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ عمران خان کو زمین اپنے پاؤں کے نیچے سے سرکتی محسوس ہوتی ہے ورنہ وہ مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی پھکڑ پن کا مظاہرہ نہ کرتے۔ انہیں خیبر پختون خوا میں 2018 میں دوسری بار انتخاب جیتنے کا دعویٰ ہے لیکن حالیہ بلدیاتی انتخاب میں وہ اپنی پارٹی کی ناقابل یقین ناکامی کا ذکر کرنا نہیں چاہتے۔ سیاسی ضرورت کے تحت من چاہی دلیل کو درست بتا کر تقریر میں وزن پیدا کیا جاتا ہے لیکن سیاسی مخالفین کے ساتھ احترام کا رشتہ استوار کرنا بھی جدید جمہوری نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ عمران خان سیاسی مخالفین کی کردار کشی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں لیکن اپنی طرف اچھالے گئے ایک فقرے پر پوری ریاستی مشینری کو اختلاف رائے رکھنے والے کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اتوار، 19 فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post عمرانی جمہوریت کا دوہرا معیار appeared first on شفقنا اردو نیوز.