تحریک عدم اعتماد سے بات نہ بننے پر اپوزیشن نے حکومت گرانے کیلئے نئے طریقہ کار پر غور شروع کردیا ہے۔ اپوزیشن حکومت کو ہر صورت گھر بھیجنے پر ڈٹ چکی ہے، اب اسمبلیوں سے استعفوں کی آپشن بھی سامنے آگیا ہے۔
چینل 92 نیوز کے مطابق اپوزیشن نے حکومتی ارکان کو پارلیمنٹ سے مستعفی کرانے پر غور شروع کردیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے پندرہ کے قریب ارکان کو پارلیمنٹ سے مستعفی کرایا جائے گا۔
اس مقصد کے لئے اپوزیشن نے قانونی ماہرین سے صلاح مشورے شروع کر دئیے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے 10 سے 15 ارکان استعفے دیدیں تو حکومت کے پاس سادہ اکثریت نہیں رہے گی۔ وزیراعظم اس وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک ایوان میں اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ استعفوں کے بعد وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے گایوں تحریک عدم اعتماد کے بغیر ہی ٹارگٹ پورا ہوجائے گا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومتی ارکان حکومت کا ساتھ نہ چھوڑیں اور اتحادی ساتھ چھوڑدیں تو بھی اپوزیشن اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گی۔
اپوزیشن کا حکومتی ارکان پارلیمان کو مستعٰفی کرانے پر غور!#92NewsHDPlus pic.twitter.com/ekwFY4xfq8
— 92 News HD Plus (@92newschannel) February 21, 2022
اس کے باوجود جو اہم نقطہ سامنے آرہا ہے کہ اسپیکر استعفے کب قبول کرتا ہے کیونکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسپیکر کی صوابدید ہے کہ وہ استعفے کتنے عرصے میں قبول کرتا ہے۔
یاد رہے کہ جب 2014 میں تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دئیے تھے تو سپیکر نے فوری طور پر منظور نہیں کئے تھے بلکہ حکومتی ارکان کو ایک ایک کرکے بلاتے تھے۔
سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے سیاسی بحران سے بچنے کیلئے استعفوں کو لمبے عرصے تک ٹالے رکھا تھا اور بالآخر ایک سال بعد تحریک انصاف اسمبلیوں سے استعفے واپس لیکر پارلیمنٹ میں آگئی تھی۔
اسی طرح پی پی دور میں اس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسمبلی سے استعفیٰ دیدیا تھا اور کئی ماہ تک ان کا استعفیٰ بھی زیر التوا رکھا گیا تھا۔