اسلام آباد (صباح نیوز) افریقا میں پولیو وائرس کو پاکستانی ویرینٹ کہلانے والے وائرس کی نشاندہی کے ایک دن بعد وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ پاکستان میں سال 2019 ء سے ملک میں اس وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ یہ وائرس کب اور کیسے پاکستان سے ملاوی پہنچا، جہاں ایک 3 سالہ بچی کے وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ یہ پیشرفت بل اور میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک بانی بل گیٹس کے اسلام آباد کے اپنے پہلے دورے کے دوران پاکستان کے پولیو پروگرام کو ’’متاثرکن‘‘ قرار دینے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس حوالے سے کہا کہ ملاوی میں پایا جانے والا پولیو وائرس ملک میں کم از کم چند سال سے گردش کر رہا ہوگا، کیونکہ پاکستان میں 2019ء سے اس وائرس کا پتا نہیں چلا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2014ء سے صحت کے بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر پوری طرح عمل کر رہا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص پولیو کے قطرے پیے بغیر پاکستان سے بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا۔ماہر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے کہا کہ اس وائرس کو پاکستان سے جوڑنا بدقسمتی ہوگی کیونکہ یہ وائرس ملک سے ختم ہوچکا ہے۔