ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

جامعہ سندھ جامشورو مالی و انتظامی بحران کا شکار ، ملازمین پریشان

 

 

کوٹری(پ ر)جامعہ سندھ جامشورو میں سینٹر آف ایکسیلنس اینلاٹیکل کمیسٹری مالی و انتظامی بحران کا شکار۔بجٹ میں کٹوتی سے ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی مشکل بن گئی۔ادارہ کا مستقبل دائو پر لگ گیا۔ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ میں کٹوتی کرنے سے مالی بحران پیدا ہوا ہے۔ڈائریکٹر۔تفصیلات کے مطابق جامعہ سندھ جامشوو میں پی ایچ ڈی کرانے والا شبعہ سینثر آف ایکسیلنس اینلاٹیکل کیمسٹری ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بجٹ میں کٹوتی سے مالی اور انتظامی بحران کا شکار بن چکا ہے۔مذکورہ شبعہ کے ملازمین کی تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی مشکل بنتی جارہی ہے پنشن نہ ملنے پر فوتی ملازم محمد فاروق کی بیوہ بھی ادائیگی کے انتظار میں دم توڑ چکی ہیں۔ادارے کے ملازمین تنخواہ پنشن اور الائونسز کی عدم ادائیگی پر مسلسل 20روز سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔اکبر برفت، شبیر سیال اورعرفان مسیح ودیگر کا کہنا ہے کہ ادارے کی تباہی کا ذمے دار ڈائریکٹر طفیل احمد شیرازی ہے جس نے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک اختیار کررکھا ہے۔سالوں سے کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہیں کیا جارہا ہے جبکہ ملازم کا کیڈر تبدیل کرکے من پسند کو ترقی دی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کو پیشن کی ادائیگی بھی مشکل بنا دی گئی ہے ادارے کے ملازم کی وفات پر ورثا کا پنشن بنیادی حق ہوتا ہے مگر موجودہ ڈائریکٹر نے بیوہ کو پنشن کی ادائیگی نہیں کی اور وہ بھی فوت ہوگئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری ادارہ کو تباہی سے بچانے کیلیے فرض شناس افسر کو تعینات کیا جائے۔دوسری جانب ڈائریکٹر طفیل احمد شیرازی نے بتایا کہ ادارہ کو مالی بحران کا سامنا ہے جس کا سبب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بجٹ میں کٹوتی کرنا ہے پانچ سال قبل ادارہ کو سالانہ گیارہ کروڑ ملتے تھے اب بجٹ بڑھنے کے بجائے کم کرکے سات کروڑکردیا گیا ہے۔ملازمین کو احتجاج کا حق ہے مگر بعض مطالبات پورے کرنا میری دسترس میں نہیں ہے وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ہی کرسکتا ہے جہاں تک شوکاز نوٹس جاری کرنے کا معاملہ ہے وہ گرلز ہاسٹل میں داخل ہوکر شور شرابا کرنے پر دیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں