ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)نئے ایس ایس پی ٹنڈوالہیار بھی ٹنڈوالٰہیار میں کھلے عام فر وخت ہو نے والی منشیات کو بند کر نے میں ناکام پولیس کو پندرہ دن میں ضلع بھر میں فر وخت ہو نے والی منشیات جس میں مین پوری، گٹکا ،سفینا، چرچ ، ہیروئن اور شراب کی کھلے عام فروخت کو بند کر نے کا حد ف دیا گیا تھا لیکن تاحال تک منشیات ضلع سے بند نہ ہو سکی جبکہ ٹنڈوالہیار شہری اس لعنت کے خلاف سراپا احتجاج بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں شہری اتھاد ٹنڈوالہیار کی جانب سے مذکورہ منشیات کے خلاف احتجاجی ریلی بھی نکالی اور ایس ایس پی ٹنڈوالہیار سے ملاقات کر کے اس کی نشاندہی بھی کی لیکن تاحال تک منشیات بند نہ ہو سکی اور پولیس کی جانب سے روایتی طور پر مختلف تھانوں پر مقد مات بھی درج کیے گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ضلع ٹنڈوالہیار میں منشیات کی کھلے عام فر وخت جاری تھی جس پر سابقہ ایس ایس پی رخسار احمد کھاوڑ کو شہر یوں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے جانے کے بعد نئے آنے والے ایس ایس پی ٹنڈوالہیار فاروق احمد بجارانی کی مقر ری کے بعد شہریوں میں امید پیدا ہوئی تھی کہ اب ان کی نوجوان نسل جو کہ مختلف قسم کے نشہ آوار چیزوں کے ذریعے تباہ ہو رہے ہیں خاص کر مین پوری، گٹکا ،سفینا، چرچ ،ہیروئن اور شراب سمیت دیگر نشہ آور چیزوں کو کھانے اور پینے کے بعد ملک و قوم کا سرمایہ تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے اور آنے والے نئے ایس ایس پی ان منشیات کا خاتمہ کراکر ملک وقوم کے سر مایے کو بچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہو ئے ضلع بھر سے منشیات کو خاتمہ کراکر شہر یوں کو اس عذاب سے نجات دلائیں گے اور اس سلسلے میں منشیات کے خلاف جہد وجہد کر نے والی تنظیم شہر ی اتحاد کے رہنماوں نے نئے آنے والے ایس ایس پی ٹنڈوالہیار سے ملاقات کر کے اس ناسور کے بارے میں بات چیت بھی کی اور ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔ ذرائع سے معلوم ہو اتھا کہ نئے ایس ایس پی ٹنڈوالہیار اس ناسور کے خاتمے کے لیے ضلع کے تمام ایس ایچ اوز کو مذکورہ منشیات کو بند کرانے کے لیے پندرہ دن کا حدف دیا گیا جس کے بعد ضلع کے تمام ایس ایچ اوز نے اپنے اپنے تھانوں پر مقدمات بھی درج کیے گئے جس سے شہریوں میں ایک امید پیدا ہو ئی کہ اب ضلع سے منشیات کا ناسور ختم ہو جائے گا لیکن مذکورہ ناسور تاحال بھی ضلع بھر میں کھلے عام چل رہا ہے جبکہ سند ھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح ہدایت کی ہے کہ ان منشیات کے خلاف مکمل طور پر کر یک ڈائون کر کے ملک وقوم کے معماروں کو بچانے کے لیے محکمہ پو لیس اپنا کردار ادا کرے اور جو بھی افراد اس کاروبار میں ملوث ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے چاہے وہ پولیس اہلکار ہی کیوں نہ ہوں۔