اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویسیلی نیبیزیا نے صدر پوتن کے انہیں دعوؤں کا پھر سے اعادہ کیا جو انہوں نے یوکرین کے خلاف گزشتہ ہفتے حملے کے وقت کیا تھا جبکہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو یوکرین کو اسلحے کی فراہمی روک دے۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں سفیر نے اس جنگ کا کیف کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے منسک کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور ماسکو یوکرین کو جو غیر فوجی اور غیر نازی کرنا چاہتا ہے، اس نے اسی روش کو دہرایا ہے۔
روس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اقوام متحدہ معاہدے کی دفعہ 51 کے مطابق اپنے دفاع کے لیے یہ کارروائی کی ہے لیکن اقوام متحدہ کے دیگر اراکین نے روس کے اس موقف کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ روس نے قرارداد دوکی خلاف ورزی کی ہے، جس کے مطابق ریاستوں کو بحران کے حل کے لیے طاقت کا استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
روسی سفیر نیببی زیا نے نے جنرل اسمبلی کو یہ بھی بتایا کہ روسی فوج یوکرین کے شہریوں کے لیے خطرہ نہیں ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری نہیں کی جا رہی ہے حالانکہ، یوکرینی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کی متعدد خبروں کے تناظر میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے سے متعلق روس کا یہ موقف درست نہیں ہے۔