آج کے اہم اخبارات کی اہم خبروں کے ساتھ حاضر خدمت ہیں۔
روزنامہ خبر ترک: "ایردوان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ”
صدر رجب طیب ایردوان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات چیت کی۔ ملاقات کے دوران صدر ایردوان نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانے، یوکرین میں انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے اور امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
روزنامہ وطن: "ترکی متاثرین کی دیکھ بھال کررہا ہے”
وزیر داخلہ سلیمان سویئلو نے کہا کہ کل تک، جنگ سے بھاگ کر ترکی آنے والے یوکرینی باشندوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اعلیٰ سطح پر اپنی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتا رہے گا ، سوئیلو نے کہا، "ہم سنہرے بالوں، نیلی یا سبز آنکھوں والی نسل سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتے۔ دنیا میں جہاں بھی متاثرین ہوں گے بھلا امتیاز سب کی دیکھ بھال کریں گے۔
روزنامہ ینی شفق: "ترکی نقل و حمل کا مرکز بن چکا ہے "
ترکی میں بین الاقوامی براہ راست سرمایہ کاری گزشتہ سال 81 فیصد بڑھ کر 14.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ صدارتی سرمایہ کاری کے دفتر کے صدر براق داعلی اولو نے کہا، "عالمی کمپنیاں ترکی کو خطے میں پیداوار، برآمد، تحقیق اور ترقی، لاجسٹکس اور انتظامی مرکز کے طور پر دیکھتی ہیں اور انہوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہی ہیں۔
داعلی اولو نے کہا کہ لاجسٹک مراکز کی تعداد 10 سے بڑھ کر 25 تک پہنچ جائے گی اور پیداوار اور نقل و حمل کی بنیاد کے طور پر ترکی کے کردار کو مضبوط کیا جائے گا۔
روزنامہ اسٹار : "ترکی بنیادی ڈھانچے میں ایک رول ماڈل ہے”
ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے وزیر عادل قارا اسماعیل اولو نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک ترکی کو انفراسٹرکچر کے حوالے سے ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں اور کہا کہ آپ نے اتنے کم وقت میں انفراسٹرکچر کے خلا کو کیسے ختم کیا، وہ ہمارے علم، مہارت اورتجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین-روس کے بحران کی وجہ سے درمیانی راہداری کی اہمیت ابھری ہے، انہوں نے کہا کہ ہم چین-یورپ تجارت میں اپنا حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روزنامہ صباح: "کمپنیوں کا ریکارڈ منافع "
ترکی کی معیشت میں 2021 میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے اور برآمدات میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے کمپنیوں نے بھی ریکارڈ حد تک منافع حاصل کیا ہے۔ استنبول اسٹاک ایکسچینج میں 311 کمپنیوں میں سے صرف 24 کمپنیوں کو نقصان ہوا ہے جبکہ 224 کمپنیوں نے ریکارڈ حد تک منافع حاصل کیا ہے۔ 32 کمپنیں نقصان سے منافع کی جانب گامزن ہیں جبکہ 24 فرموں نے ہزار فیصد سے زاہد منافع حاصل کیا ہے جبکہ 130 کمپنیوں کے منافع میں 100 فیصد سے زاہد اضافہ ہوا ہے ۔