ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

محنت ،مشقت ،بھوک افالس،بیماری گھر میں تلخیاں مزدوروں کا مقدر بنادی گئیں

کراچی (رپورٹ: قاضی سراج) محنت، مشقت، بھوک افلاس، بیماری اور گھر میں تلخیاں مزدوروں کا مقدر بنا دی گئی ہیں‘ قلیل تنخواہ میںگھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہے‘ تعلیم اور علاج کی عدم سہولیات کی وجہ سے مزدور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں ‘ یہ موت اور زندگی کی کشمکش ہے‘مہنگائی نے زندگی اجیرن کردی‘ صنعتکار زیادہ منافع کے لیے محنت کشوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی، متحدہ لیبر فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری مختار حسین اعوان،نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے جنرل سیکرٹری شکیل احمد شیخ،پی آئی اے کے مزدور رہنما محمد عارف خان روہیلہ، ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان کے رہنما اسرار ایوبی اور قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کے مزدور رہنما ملک صفدر نوازنے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’معاش سے تنگ مزدور کی گھریلو زندگی کیسی ہوتی ہے؟‘‘ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ مزدور کی زندگی کو زندگی ہی نہیں کہا جا سکتا‘ اگر یہ زندگی ہے تو موت کیا ہے‘ سسکنا، کڑھنا، آہیں بھرنا، رونا دھونا، بھوکا ہونا، لباس، چین اور سکون سے محروم ہونا عذاب ہی ہے جس سے مزدور گزر رہے ہیں‘ گھریلو زندگی کے لیے گھر کا ہونا ضروری ہے‘ اگر گھر چاردیواری اور اس پر ایک چھت کا نام ہے تو وہ انہیں میسر ہی نہیں ہے‘ بھوک اور فاقے ہیں‘ معصوم پھولوں سے خوبصورت بچے تعلیم اورعلاج سے محروم ہیں‘ یہ تو زندگی نہیں‘ موت اور زندگی کی کشمکش ہے۔ مختار حسین اعوان نے کہا کہ اس دور میں جہاں دنیا ترقی کرتی نظر آتی ہے‘ امیر اور امیر جبکہ غریب اور غریب ہوتا جا رہا ہے جس سے اس کا گزارا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے‘ معاشی تنگیکی وجہ سے ایک مزدور کا اپنی گھریلو زندگی چلانا بہت کٹھن ہے جس کا سبب بیروزگاری اور جتنی اجرت کا ایک مزدور حقدار ہے‘ اس کا نہ ہونا ہے‘ جو کم از کم اجرت رکھی گئی ہے اس سے ایک گھر چلانا ناممکن ہے مگر بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہرکوئی اس موضوع پر بات کرنا بھی گناہ سمجھتا ہے‘ معاشی تنگی کا پہلا رخ یہ ہے کہ قرض ایک مزدور غمی یا خوشی کے لیے لیتا ہے مگر اس کی قسطیں اتارنا مشکل ہوجاتا ہے‘ وہ دنیا اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھتی ہے اور دوسرا رخ بہت خطرناک ہے کیونکہ ایک مزدور معاشی تنگی پر غلط راستہ اپناتا ہے۔ شکیل احمد شیخ نے کہا کہ مزدوروں کے گھریلو مسائل میں اگر دیکھا جائے تو گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت ہے‘ محنت کش صنعتوں کا پہیہ چلا کر اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن محنت کشوں سے مالکان و سرمایہ دار مفادات تو حاصل کر رہے ہیں لیکن ورکرز کو سہولیات دینے کے لیے مروجہ طریقہ کار میں مزید مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں اور اب ایک اور سلسلہ فیکٹریز مالکان نے شروع کیا ہے کہ چیمبر کے ذریعے محکمہ محنت کے افسران پر ناجائز دبائو ڈال کر جو تھوڑی بہت مراعات ٹریڈ یونین کے ذریعے مزدوروں کو حاصل ہوتی ہیں وہ بھی ختم کرائی جا رہی ہیں‘حیدرآباد میں موٹر سائیکلوں کے کئی کارخانے اور بینگل انڈسٹری کی صنعت موجود ہے لیکن یہاں ورکرز کو نہ تو ٹریڈ یونین بنانے کی آزادی ہے اور نہ ہی کم از کم اجرت ادا کی جا رہی ہے‘ جب کہ مزدوروں کو بھرتی لیٹر کا اجرا، سوشل سیکورٹی میں ان کا نام درج کرنے اور ای او بی آئی میں ان کا نام شامل کرنے کے بجائے ان سے صرف 12، 12 گھنٹے کام لیا جا رہا ہے لیکن اجرتیں انتہائی قلیل دی جا رہی ہیں جن سے ان کے گھریلو اور معاشی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ محمد عارف خان روہیلہ نے کہا کہ آج کل ہمارے ملک میں بیروزگاری کا طوفان آیا ہوا ہے‘ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری نے مزدور کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے‘ ذرائع آمدنی محدود یا مسدود ہونے کی وجہ سے مزدور ذہنی و نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار رہتا ہے۔اسرار ایوبی نے کہا کہ معاش سے تنگ مزدور کی زندگی سراسر بے کیف اور بے پناہ مصائب کا شکار ہوتی ہے‘ دور حاضر میں بے روزگاری، غربت اور مہنگائی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے باعث محنت کش طبقہ میں بے شمار اخلاقی اور معاشرتی مسائل جنم لے رہے ہیں جن میں مایوسی، ذہنی دباؤ چھوٹے موٹے جرائم، نشہ اور بعض اوقات خودکشی تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ معروف روسی ناول نگار لیو ٹالسٹائی کے بقول معاشرے میں غربت کی اصل وجہ چند بااثر لوگوں کو عطا کردہ ناجائز مراعات ہوتی ہیں ورنہ بے روزگار شخص جائز طریقہ سے اپنے باعزت جینے کا بندوبست کرسکتا ہے ۔ ماہرین کے نزدیک غربت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ غربت کسی انسان یا معاشرہ کی ایسی حالت کا نام ہے جس میں ان کے پاس کم ترین معیار زندگی کے لیے لازمی اسباب اور وسائل کا فقدان ہو‘ وطن عزیز میں مضبوط طبقاتی نظام، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بدترین استحصالی نظام کے باعث کروڑوں محنت کش سخت محنت و مشقت کے باوجود خط افلاس کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ صفدر نواز نے کہا کہ معاش سے تنگ مزدور کی زندگی فیملی کے ساتھ بڑی کٹھن ہوتی ہے یہ تو مزدور کی فیملی ہی جانتی ہے ‘حکومت کو چاہیے کہ لیبر قوانین کو بہتر بنائے اور اس مہنگائی کے دور میں مزدور کی اجرت یومیہ2 ہزار مقرر کرے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں