اسلام آباد(نمائندہ جسارت) اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی جس پر86 ارکان کے دستخط ہیں۔ساتھ ہی قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی بھی ریکوزیشن جمع کرادی گئی ہے۔تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ ن لیگ کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا تھا۔جسمیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کررہے اس میں حکومت کو تاریخی شکست ہوگی۔قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن اور تحریک عدم اعتماد جمع کرانے شاہدہ اخترعلی، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، شازیہ مری، نوید قمر، رانا ثنااللہ اور ایاز صادق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ پہنچے۔تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اسٹاف نے وصول کی۔اپوزیشن نے آئین کے آرٹیکل 54
تھری کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی ساتھ ہی جمع کرا دی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر صرف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جاتی تو لامحدود مدت تک اسمبلی اجلاس طلب نہ ہونے کا امکان تھا لیکن اب آئین کے تحت اپوزیشن ریکوزیشن پر اسپیکر 14 روز میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔رولز کے مطابق قرارداد کا نوٹس موصول ہونے کے بعد سیکرٹری ممبران کو نوٹس ارسال کرے گا۔ ایک دن کے وقفہ سے اجلاس کے ایجنڈا پر تحریک عدم اعتماد شامل ہو گی۔ قرارداد پیش ہونے کے بعد اسپیکر تحریک پر بحث کے لیے ایام مختص کرے گا۔ قرراداد پر ووٹنگ 3 دن سے قبل اور 7 دن کے بعد نہیں ہو سکتی۔تحریک عدم اعتماد میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس ہاؤس اور عوام کا مینڈیٹ کھوچکے ہیں، ان پر اعتماد ختم ہوچکا ہے لہٰذا اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کراتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے نمبرز پورے کر لیے ہیں اور اس وقت ان کے پاس 197 سے 202 اراکین کی حمایت موجود ہے۔اپوزیشن نے تحریک انصاف کے 28 ارکان اور ایک اتحادی جماعت کے اراکین کی حمایت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ (ن) لیگ کے ساتھ تحریک انصاف کے 16، پیپلزپارٹی کے ساتھ 4 اور جے یو آئی کے ساتھ 2 حکومتی اراکین ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے مزید 6 ارکان قومی اسمبلی (ن) لیگ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ذرائع کا کہناہے کہ تحریک انصاف کے 28 ممبران کے نام وزیراعظم کے علم میں ہیں۔ علاوہ ازیں ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں لیگی قیادت نے تمام ارکان کو ابتدائی طور پر اگلے 20 دن تک اسلام آباد میں قیام کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت نے اپنے ارکان کو بتایا کہ اگلے 3 ہفتے انتہائی اہم ہیں لہٰذا اسلام آباد سے غیرحاضری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔بعد ازاں ن لیگ ، جے یو آئی اور پی پی کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی امید ظاہر کی اور دعویٰ کیا ہے کہ 172 سے زائد اراکین ہمارے ساتھ ہیں۔ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ کل ہماری مشاورت ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس سے ہر شخص تنگ آچکا ہے،وزیراعظم نے اپنی حالیہ تقریر میں یورپی ممالک کو بھی ناراض کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی بھی فیصلہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے حق اور بہتری کے لیے کیا ہے، تحریک عدم اعتماد دراصل عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے۔ شہباز شریف نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ اورآئندہ انتخابات سے متعلق متحدہ اپوزیشن مشترکہ فیصلہ کرے گی۔جمعیت علما اسلام کے قائد اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو بڑی باتیں کرنی تھیں کرلیں اب کچھ نہیں ہوسکتا، عمران خان مقبول نعروں کا سہارا مت لیں، عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں، حکومت کے دن اب گنے جا چکے ہیں اور بساط لپٹ چکی ہے،قوم عنقریب ان سے نجات کی خوشخبری سنے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی تمام گفتگو ہمیں پہلے روز سے ہی نمائشی نظر آ رہی تھی، ساڑھے تین سال میں ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا گیا، ہم نے پہلے ہی کہا تھا حکمران بیرونی قوتوں کا ایجنٹ ہے، جس نے این جی اوز کے ذریعے پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی اور مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔فضل الرحمن نے کہا کہ جو آپ کوکرنا تھا وہ آپ نے کر لیا، بلند و بانگ دعوے کر کے نئی نسل کو دھوکا دیا، امریکا اور یورپ کی باتیں ہو رہی ہیں ہم آپ کی اصلیت اور حقیقت کوجانتے ہیں، اب کوئی آئیڈیل باتیں سودمند ثابت نہیں ہوں گی، آپ ہمیں دھمکیاں اور گالیاں دے رہے ہیں تو کیسے ہمارا مقابلہ کریں گے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے اپنے فیصلوں کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے البتہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کے تمام معاملات طے ہوچکے ہیں، اداروں سے کوئی دشمنی نہیں تاہم اْن کی جانبدار پالیسیوں سے ہمارا اختلاف ہے، ہماری سیاست چلتی رہے گی مگر ملکی مفاد پر اپوزیشن متحدہ ہے تاکہ پاکستان کو مسائل سے چھٹکارا دلایا جاسکے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرمملکت آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد میں 172 سے بھی زیادہ ووٹ لیں گے اور اسے کامیاب بنا کر آپ کو اور آنے والی نسلوں کو بچائیں گے، اپوزیشن نے سوچا اب نہیں توکبھی نہیں۔زرداری نے کہا کہ ہم نے بینظیربھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی تو اسحاق خان نے اسمبلی توڑ دی تھی مگر اب صدر مملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے ارکان اپنے حلقوں میں جائیں گے توکیا جواب دیں گے، ان کے اپنے لوگ بھی ان کے طرز حکمرانی سے بیزار ہوگئے ہیں۔صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زرداری نے ازراہ تفنن کہا کہ کیااراکین کے نمبرز اور نام بھی بتادوں کہ کتنے تحریک عدم اعتماد کے حامی ہیں، یہ سب کوئی حکمت عملی کے تحت نہیں ہورہا بلکہ قدرت ہمارے اچھے دن لے آئی تو سب مل کر بیٹھ گئے۔