ویب ڈیسک —
پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیمیں جمعے کو 24 برس کے طویل وقفے کے بعد پاکستان کی سرزمین پر ٹیسٹ میچ میں مدِمقابل آ رہی ہیں۔ ماہرینِ کرکٹ ٹیسٹ سیریز میں کانٹے کے مقابلوں کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ٹیموں میں ایسے میچ وننگ کھلاڑی موجود ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دونوں ٹیموں میں موجود ایسے کھلاڑیوں کاجائزہ لیتے ہیں جو تنِ تنہا اپنی ٹیم کو میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
1۔ بابر اعظم
اپنی کور ڈرائیوز اور دلکش بیٹنگ اسٹائل کی وجہ سے پاکستانی شائقین کے ہردلعزیز بابر اعظم آسٹریلیا کے خلاف اچھا ریکارڈ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں اُن کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کو مشکل میں ڈالنے کے لیے آسٹریلوی بالرز کے لیے بابر اعظم کی وکٹ لینا نہایت ضروری ہو گا۔ بابر اعظم فاسٹ بالرز کے علاوہ اسپن اٹیک کو بھی اچھے انداز میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر بابر اعظم کی آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچز پر نظر ڈالی جائے تو وہ کینگروز کے خلاف سات ٹیسٹ میچز میں 31.46 کی اوسط سے 409 رنز بنا چکے ہیں۔ جن میں ایک سینچری اور دو نصف سینچریاں شامل ہیں۔
مجموعی طور پر بابر اعظم اب تک 37 ٹیسٹ میچز میں 43.17 کی اوسط سے 2461 رنز بنا چکے ہیں جن میں پانچ سینچریاں اور 19 نصف سینچریاں شامل ہیں۔
2۔اظہر علی
پاکستانی ٹیسٹ بیٹنگ لائن اپ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اظہر علی گو کہ حالیہ عرصے میں اچھی فارم میں نہیں ہیں، لیکن وہ اپنے مضبوط دفاع اور وکٹ کے چاروں جانب اسٹروکس کھیلنے کی صلاحیت کی وجہ سے مخالف ٹیم کے لیے دردِ سر بن سکتے ہیں۔
اظہر علی آسٹریلیا کے خلاف 11 ٹیسٹ میچز کی 22 اننگز میں 50 کی بیٹنگ اوسط سے 1000 رنز بنا چکے ہیں جن میں تین سینچریاں اور پانچ نصف سینچریاں بھی شامل ہیں۔
مجموعی طور پر اظہر علی پاکستان کی جانب سے 91 ٹیسٹ میچز میں 6721 رنز بنا چکے ہیں جن میں 18 سینچریاں اور 34 نصف سینچریاں شامل ہیں۔
اظہر علی نے 2016 میں دورۂ آسٹریلیا کے دوران میلبرن میں 205 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی تھی، پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 443 رنز بنا کر پہلی اننگر نو کھلاڑیوں کے نقصان پر ڈیکلیئر کی تھی۔
جواب میں آسٹریلیا نے آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 624 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کر دی، لیکن دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم صرف 163 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور یوں آسٹریلیا ایک اننگز اور 18 رنز سے میچ جیت گیا تھا۔
3۔فواد عالم
گیارہ برس بعد 2020 میں پاکستان کے ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنانے والے فواد عالم نے ٹیم میں فولادی واپسی کی اور اب ٹیم کا مستقل حصہ ہیں۔
عام طور پر وہ اس وقت کریز پر آتے ہیں جب پاکستان اوپنرز اور مڈل آرڈر خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا پاتا، ایسے میں لوئر مڈل آرڈر بلے باز فواد عالم چٹان کی طرح مخالف ٹیم کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اپنے منفرد بیٹنگ اسٹائل کی وجہ سے بھی وہ بالرز کی لائن و لینتھ کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فواد عالم فاسٹ بالرز اور اسپنرز کو مہارت کے ساتھ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذٰا پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو پویلین کی راہ دکھانے کے لیے آسٹریلوی بالرز کے لیے فواد عالم کی وکٹ بھی قیمتی ہو گی۔
فواد عالم پہلی مرتبہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں مدِمقابل ہوں گے، وہ اب تک پاکستان کی جانب سے صرف 15 ٹیسٹ میچز کھیل سکے ہیں، جس کی 24 اننگز میں وہ پانچ سینچریوں اور دو نصف سینچریوں کی مدد سے 953 رنز بنا چکے ہیں۔
4۔شاہین شاہ آفریدی
پاکستان کی پیس بیٹری کے روح رواں شاہین شاہ آفریدی محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنے خطرناک یارکرز اور تیز بالنگ کی وجہ سے کسی بھی بلے باز کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچز میں بھی شاہین کو پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ سمجھا جا رہا ہے۔ خصوصاً پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی فاسٹ بالرز کے لیے سازگار سمجھی جانے والی پچ پر شاہین ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔
شاہین آفریدی آسٹریلیا کے خلاف اب تک صرف دو ٹیسٹ میچز کھیل سکے ہیں جن میں اُن کی وکٹوں کی تعداد پانچ ہے۔ وہ مجموعی طور پر 21 ٹیسٹ میچز میں 86 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
5۔ساجد خان
بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنی جادوئی بالنگ سے بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھانے والے ساجد خان آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ میں دراڑ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ساجد خان نے صرف چار ٹیسٹ میچز کھیل کر 19.72 کی اوسط سے 18 وکٹیں سمیٹ رکھی ہیں جن میں بنگلہ دیش کے خلاف گزشتہ برس کھیلے جانے والے ڈھاکہ ٹیسٹ میں 12 وکٹیں بھی شامل ہیں۔
6۔ اسٹیو اسمتھ
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اسٹیو اسمتھ کینگروز بیٹںگ لائن اپ کا اہم ستون سمجھے جاتے ہیں، اگر پاکستانی بالرز نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو مشکل میں ڈالنا ہے تو اس کے لیے اسمتھ کی وکٹ اہم ہو گی۔
اسمتھ پاکستان کے خلاف اب تک نو ٹیسٹ میچز میں 54 کی اوسط سے 755 رنز بنا چکے ہیں جن میں دو سینچریاں اور پانچ نصف سینچریاں شامل ہیں۔
اسٹیو استمھ فاسٹ بالنگ کے ساتھ ساتھ اسپنرز کو بھی بہتر انداز میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستانی لیگ اسپنر یاسر شاہ کئی مواقع پر اُنہیں پویلین کی راہ دکھا چکے ہیں، لیکن یاسر شاہ کو آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیے ریزرو کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے اور وہ شاید پلیئنگ الیون میں جگہ نہ بنا سکیں۔
7۔ عثمان خواجہ
پاکستانی نژاد آسٹریلوی مڈل آرڈر بلے باز عثمان خواجہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے پاکستان میں گھر کے بھیدی ثابت ہو سکتے ہیں۔
عثمان خواجہ اب تک پاکستان کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچز میں ایک سینچری اور چار نصف سینچریوں کی مدد سے 496 رنز بنا چکے ہیں۔ لہذٰا پاکستانی بالرز کے لیے اُن کی وکٹ بہت قیمتی ہو گی۔
8۔ڈیوڈ وارنر
جارح مزاج آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر ٹیسٹ میچز میں تیزی کے ساتھ رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا پاکستانی بالرز کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ جلد وارنر کو پویلین بھیجیں۔ اگر وہ وکٹ پر ٹک گئے تو آسٹریلیا کی ٹیم بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔
اگر وارنر کی پاکستان کے خلاف پرفارمنس پر نظر ڈالی جائے تو وہ اب تک سات ٹیسٹ میچز میں پانچ سینچریوں اور دو نصف سینچریوں کی مدد سے 1084 رنز بنا چکے ہیں۔
وارنر کی پاکستان کے ہی خلاف 2019 میں ایڈیلیڈ اوول میں بنائی گئی ٹرپل سینچری کو کون بھول سکتا ہے۔ محض 418 گیندوں پر 80 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے گئے 335 رنز نے نہ صرف آسٹریلیا کو کامیابی دلوائی بلکہ وہ اس اننگز میں ناقابلِ شکست رہے۔
9۔ مچل اسٹارک
اپنی نپی تلی بالنگ کے باعث بیٹرز کے لیے دردِ سر رہنے والے مچل اسٹارک بھی پاکستان کے خلاف سیریز میں ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ان کی پاکستان کے خلاف پرفارمنس بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔وہ اب تک گرین شرٹس کے خلاف کھیلے گئے آٹھ میچز میں 34 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
نئی گیند کے ساتھ راولپنڈی کی فاسٹ بالرز کے لیے سازگار سمجھی جانے والی پچ پر پاکستان کے اوپننگ بلے بازوں کو اسٹارک کا سامنا نہایت محتاط ہو کر کرنا پڑے گا۔
10۔پیٹ کمنز
آسٹریلوی فاسٹ بالر پیٹ کمنز ٹیم کی قیادت کے ساتھ ساتھ مچل اسٹارک اور جوش ہیزل وڈ کے ساتھ مل کر آسٹریلیا کی فاسٹ بالنگ بیٹری کا اہم حصہ ہیں۔
وہ پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچ کھیل کر آٹھ پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کر چکے ہیں۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ پیٹ کمنز اپنی بالنگ کا جادو جگا کر پاکستانی بلے بازوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
11۔نیتھن لائن
آسٹریلوی آف اسپنر نیتھن لائن کئی سال سے آسٹریلیا کی اسپن بالنگ کا اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ اپنی بالنگ سے بلے بازوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے والے لائن پاکستان کی کنڈیشنز میں سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ جہاں ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز سے وکٹ ٹرن لینا شروع کر دیتی ہے۔
نیتھ لائن پاکستان کے خلاف نو ٹیسٹ میچز میں 33 وکٹیں اُڑا چکے ہیں۔