کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی فوج نے یوکرین کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر30 میزائل داغے جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 134 زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فوجی اڈہ پولینڈ سے محض 25 کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔خیال رہے کہ 140 مربع میل پر محیط اس فوجی اڈے میں یوکرینی اہلکاروں کو تربیت دینے کے لیے نیٹو کے ٹرینر بھی موجود رہے ہیں۔ یافوریف کے گورنر میکسم کوزیٹسکی نے میڈیا کو بتایا کہ روسی طیاروں نے ’’یاوریو انٹرنیشنل سینٹر فار پیس کیپنگ اینڈ سیکورٹی‘‘ پر 30 راکٹ داغے جن میں سے کچھ کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا تاہم زیادہ تر فوجی اڈے میں گرے۔گورنر میکسم کوزیٹسکی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں کوئی غیرملکی یا نیٹو اہلکار بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ روس کا یہ پہلا حملہ ہے جو یوکرین کے مغربی علاقے اور یورپی یونین کے رکن ملک پولینڈ کے قریب کیا گیا ہے تاہم اب تک یورپی یونین اور پولینڈ نے اس حملے پر ردعمل نہیں دیا ہے۔علاوہ ازیں یوکرین کے دارالحکومت کیف کے نزدیک روسی افواج کی فائرنگ میں نیویارک ٹائمز کا ایک صحافی ہلاک ہوگیا جب کہ دوسرا شدید زخمی ہے۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف سے متصل شہر ایرپن میں پناہ گزین کیمپ کی کوریج کے بعد واپس آنے والے 2 امریکی صحافیوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔ فائرنگ سے 51 سالہ صحافی برینٹ ریناؤڈ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ ان کے ساتھی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔کیف پولیس کے چیف نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں صحافیوں کو ایرپن میں روسی فوج نے ایک چیک پوسٹ پر گولیوں کا نشانہ بنایا جب صحافی پناہ گزین کیمپ پر ٹیلی فلم کی ریکارڈنگ کرکے واپس آرہے تھے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مقتول صحافی کئی برسوں سے ان کے ساتھ منسلک تھے اور یوکرین میں خصوصی اسائنمنٹ پر تھے۔ روسی فوج نے تاحال امریکی صحافی کے قتل پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
The post روس کا یوکرین کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر حملہ ،35 ہلاک،134 زخمی appeared first on Daily Jasarat News.