اٹلی میں گزشتہ سال اپریل کے آخر میں لاپتہ ہونے والی پاکستانی لڑکی ثمن عباس کے کیس نے دوبارہ سے توجہ حاصل کرلی۔ اطالوی پارلیمان کی آئینی کمیٹی نے ثمن کے نام سے نیا قانون بنانے کی منظوری دی ہے جسے’’ثمن لاء‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اطالوی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جوسپے بریشیا کا کہنا ہے کہ نئے قانون کا مقصد خاص طور پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور بالخصوص زبردستی کی شادیاں روکنا ہے۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اٹلی میں لڑکیوں کی مرضی کے بغیر شادیوں کی شرح بڑھ رہی ہے، اور ان میں سے بیشتر کا تعلق اٹلی میں مقیم غیرملکی خاندانوں سے ہے۔ اس لیے
’’ثمن لا‘‘ کے ذریعہ غیرملکی خاندانوں میں مرضی کے بغیر شادیاں روکنے کے لئے لڑکیوں کو رہائشی پرمٹ دئیے جائیں گے۔ کمیٹی سے منظوری اس عمل کی ابتدا ہے بل اب پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔