ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

میرپورخاص،بلدیہ شاپنگ سینٹر کمپلیکس کی چھت ٹپکنے لگی،دکاندار پریشان

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) ایک ہی چھت کے نیچے پاکستان کا سب سے بڑا شاپنگ کمپلیکس کے پانچ سے زائد دکانوں کے مالکان اور خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہو ئی ہیں کمپلیکس کے اوپر بنے ہوٹل اور پکوان سینٹر کا پانی چھت میں جگہ جگہ سے رسنے لگا پانی کی وجہ سے دکانوں کے چھت کا پلاستر گر نا شروع ہو گیا دکانداروں کی شکایت کے باوجود پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا متعلقہ انتظامیہ کسی بڑے حادثے کی منتظر۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں قائم پاکستان کا سب سے بڑا ایک ہی چھت کے نیچے پانچ سو سے زائد دکانوں پر مشتمل بلدیہ شاپنگ کمپلیکس کے دکاندار ان دنوں سخت پریشان ہیں کمپلیکس کی چھت سے رسنے والے پانی سے اب دکانوں کی چھتوں کا پلاستر جھڑنا شروع ہو گیا ہے جس سے دکانداروں اور شہریوں کی جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ ہے جبکہ کروڑوں روپے کا فنڈز رکھنے والی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ دکانداروں سے ماہا نہ کرایہ وصول کرنے کے باوجود ان کے مسائل حل کرنے کو تیا ر نہیں۔ اس حوالے سے دکانداروں کی جانب سے متعلقہ ضلعی اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو شکایات کی گئی ہیں لیکن کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ کمپلیکس کے اوپر ایک پکوان سینٹر اور ہوٹل کے آلودہ پانی سے نکاسی آب کی لائنیں بند ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے پانی دکانوں کی چھتوں سے رسنا شروع ہو گیا ہے اور اس رسنے والے پانی نے کمپلیکس کی چھت کو کمزور کر دیا ہے اور اکثر دکانوں اور ورانڈوں کی چھت کا پلاستر گر جا تا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلدیہ شاپنگ کمپلیکس کے دکانداروں اور خریداری کے لیے آنے والے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے اور کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے اور سب سے زیادہ کمپلیکس کے بلاک اے کی چھتیں مکمل منہدم ہونے کے در پے ہے جگہ جگہ سے چھت کا سریہ ظاہر ہو گیا ہے دکانداروں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر دکانوں کی چھتوں کی مرمت کرائی جائے اور چھت پر قائم ہوٹل اور پکوان سینٹر کے پانی کی روک تھام کر کے نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا جائے تاکہ کمپلیکس کی چھت اور شہریوں کو نقصان سے بچایا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں