وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے تین سال جدوجہد کی اور بالآخر اقوام متحدہ میں پندرہ مارچ کو اسلام مخالف پراپیگنڈے کے خلاف عالمی دن کے طورپر منانے کی تاریخی قرارداد منظور کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
بدھ کے روز سوات میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مغرب نے اظہار رائے کی آزادی کے نام پرہمیشہ توہین رسالت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ مغرب میں مسلمانوں نے اسلام مخالف پراپیگنڈے کی وجہ سے بہت تکالیف برداشت کیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں مگر مغرب نے دہشت گردی کو ہمیشہ اسلام سے جوڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی تیس سالہ سیاست میں اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ۔
عمران خان نے مودی کی فسطائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک کورٹ نے خواتین کے سرپراسکارف پہننے پر پابندی لگادی ہے جو اسلام کے خلاف منافرت کی بدترین مثال ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کو کورونا اور معاشی عدم استحکام سمیت مشکل وقت سے باہر نکالا ہے ۔
عمران خان نے کہاکہ پوری دنیا نے کورونا وباء کے دوران ہماری حکمت عملی کو سراہا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ریکارڈ آمدن پیدا کرنے کے علاوہ گندم، مکئی اور چاول کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی۔