اسلام آباد/کراچی(نمائندہ جسارت+ اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہاہے کہ سندھ ہاؤس ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں اسمبلی اراکینکی بولیاں لگ رہی ہیں ،خچروں اور گدھوں کا ایک بازار سجا ہوا ہے، اس کے خلاف خلاف سخت ایکشن پلان کررہے ہیں۔گرین یوتھ موومنٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کو سامراج کے ایجنٹس سے بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اپوزیشن 10 لاکھ افراد کا سن کر ڈر گئی ہے، شریف آدمی کو اتنا نہ تنگ کرو کہ وہ بد معاش بن جائے، کیوں کہ جب شریف بندہ بد معاش بنتا ہے تو اچھے اچھوں کی بدمعاشی نکل جاتی ہے۔بعد ازاں اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے، اسپیکر کو ان ضمیر فروشوں کو تاعمر نا اہل قرار دینے کی کارروائی کرنی چاہیے،پچھلے پانچ لوگوں کو 15 سے بیس کروڑ ملے، خچروں اور گھوڑوں کی منڈیاں لگ گئی ہیں، باضمیر ہوتے تو استعفا دیتے، تمہارے باپ کا ووٹ ہے ؟ استعفا دو اور واپس جاؤ ۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے سندھ ہاؤس پر کارروائی کی تو ردعمل شدید ہوگا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ کسی ایم این اے کے ساتھ زبردستی کی تو ہم نے شرافت کا لبادہ نہیں اوڑہوااورصرف پی ٹی آئی نہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایم این ایز بھی سندھ ہاؤس میں ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم کہلانے والے ہیں اور نئی سیاسی پیش رفت کے بعد عمران خان اب کہیں گے مجھے کیوں نکالا۔ انہوں نے وزیر اعظم پر الزام لگایا کہ شرم کی بات ہے کہ عمران خان پی ٹی ا?ئی کے منحرف اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کی جاسوسی کروارہے ہیں، ارکان کی فون ٹیپ کروانا اور جاسوسی آئین کی خلاف ورزی ہے۔