شام میں عوام کے آ زادی کے مطالبے سے اب تک بربریت بھری جنگ کو گیارو سال گزر چکے ہیں۔ بے شمار سانحات کے بعد،سٹوک وائٹ (Stake White) وہ پہلی فرم تھی جس نے 2019 میں بشارالاسد کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمےکیدرخواست دی۔ بہرحال ،تین سال بعد ہمیں یقین ہے کہ عالمی عدالت انصاف شامی لوگوں کو انصاف دینے کے لیے پاؤں گھسیٹ کر چل رہی ہے۔شام آئی سی سی کا دستخط گزار ملک نہیں ہے۔ لیکن یہ چیز میری فرم کو اسد کے جنگی جرائم کے احتساب کے عمل سے باز نہیں رکھ سکتی ۔ ہم نے شامی متاثرین سے شہادتیں حاصل کرنے کا انتظام کیا جو کہ اردن فرار ہو گئے تھے اور پھر ہم نے شامی حکومت کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے آئی-سی-سی کی عدالت سے رجوع کیا ۔
ہم نے اس راستے پر اور کئی رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ روس اور چین ویٹو پاورزہیں اور انہوں نے اس طاقت کو آئی –سی-سی کو سپیشل ٹریبیونل بنانے سے باز رکھنے کے لیے استعمال کیا کیونکہ اس کی وجہ سے انصا ف کا عمل تیز ہو سکتا تھا۔ان رکاوٹوں کے باوجود ، میری ٹیم نے فیلڈ کا کام کرنے کا انتظام کیا جس کے زریعے شامی حکومت کے خلاف معلومات جمع کی گئیں۔ ہم نے پورے علاقے میں بکھرے ہوئے، ترک-شام سرحد سے لے کر اردن میں موجود کیمپوں تک متاثرین سے دو ہزرا سے زائد شہادتیں اکٹھا کیں۔ ان متاثرین نے ہمیں ہوائی حملوں ،تشدد، جنسی زیادتی ، قتل عام اور دوسری سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا جس میں کیمیائی ہتھیاروں سے اموات بھی شامل تھیں۔
شہادتوں کے اس قدر انبار لگانے کے باوجود ، آئی سی سی کی پیش مقدمی معائنہ ٹیم، جو کہ مقدمہ شروع کرنے کا پہلا قدم ہے اس بات پر ابھی تک گومگو کا شکار ہےکہ شامی حکام کے خلاف استغاثہ کیسے شروع کیا جائے ۔.تاہم تحقیقاتی مشن کے تین دورمکمل کر چکے ہیں اور ہم نے باقاعدگی سے آئی سی سی کو شہادتیں جمع کروائی ہیں۔ ہم پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ آئی سی سی اس مقدمے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔مثال کے طور پر، ہم نے درخواست کی کہ ایک ابتدائی تحقیقاتی معائنہ فوری طور پر شروع کیا جائے جو کہ قانون کے آرٹیکل سات کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کی شہادتوں کا جائزہ لے۔ ہم نے اسے موسوم کیاکہ کہ متاثرین کو شام سے اردن ملک بدر کر کے آرٹیکل سات(ایک) (ڈی) کی خلاف ورزی کی گئی؛ اور یہ کہ متاثرین کا اجتماعی مشکلات میں ڈال کر آرٹیکل سات (1) (ایچ) کی خلاف ورزی کی گئی اور یہ کے دوسرے غیر انسانی اقدامات کا ارتکاب کر کےآرٹیکل سات (1) (کے ) کی خلاف ورزی کی گئی۔
میری فرم کو یقین ہے کہ جبری ملک بدری کے اس طرح کے واقعات شام میں ہر کہیں ہوئے جہاں سویلین کو گھر بار چھوڑ کر جبرا” پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ پوری دنیا میں شامی سب سے زیادہ جبری وطن بدر کئے گئے لوگ ہیں۔ اقوام متحدہ کےاندازوں کے مطابق ، 2019 کے اختتام تک ایک کروڑ چونتیس لاکھ شامیوں کو ملک سے زبردستی بےدخل کیا گیا ۔ یہ شام کی کل آبادی کا نصف بنتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آئی سی سی کے پراسیکیوٹر فاتو بن ساؤدہ کو اور اس کےپیش رو کریم احمد کو مقدمے کو آگے بڑھانے کے لیےمضبوط قدم اٹھانے چاہئیں تھے ، بالخصوص اس وسیع شہادتی مواد کی روشنی میں جو میری ٹیم نے فراہم کی تھا۔ لیکن اس کے بجائے گزشتہ سال ، آئی سی سی کی ابتدائی معائنہ ٹیم نے کووڈ 19کے عروج کے دنوں میں میری ٹیم کومزید شہادتوں کے بارے میں کہا ۔ ہم اس وقت کیسے فیلڈ کا کام کر سکتے تھے جبکہ ہر کوئی پابندی میں رہ رہا تھا، یعنی قرنطینہ میں تھا۔ اس کے مقابلےمیں سٹوک وائٹ کو اس بات کا اچھا تجربہ تھا کہ آئی سی سی نے ماضی میں کس طرح انسانیت پرست مقدمات کو کیسے تیزی سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
بشار الاسد کے علاوہ فری سیرین آرمی نے بھی جس قدر بربریت کا مظاہرہ کیا ان کے خلاف بھی یہ تحقیقات اسی طرح جاری رہنی چاہیے۔ بشار الاسد کے مخالف قوتوں نے بھی شام میں اسی طرح ظلم و بربریت کا دور گرم کیے رکھا مگر مغربی ممالک نے اس میں صرف بشار الاسد کو ہی نشانہ بنایا۔ وائٹ ہیلمٹ نامی تنظیم جو کہ بنیادی طور پر شام میں امدادی کارروائیوں میں ملوث تھی درپردہ امریکی ایماپر کام کرتی رہی اور بہت سارے جنگی جرائم میں ملوث رہی ۔
جمعتہ المبارک، 18 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post شام میں جنگی جرائم کی تحقیقات :بین الاقوامی عدالت انصاف تاخیر کیوں کر رہی ہے ؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.