صدر رجب طیب ایردوان نے مہاجرین کے شعبہ صحت میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو جامع ہم آہنگی اور عالمی مساوات کے حامی اصولوں کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کی صحت سے چشم پوشی کے نتیجے میں عالمی ترقیاتی اہداف اور عالمگیری شعبہ صحت میں بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔
صدر ایردوان نے عالمی ادارہ صحت اور ترک وزارت صحت کے اشتراک سے منعقدہ یورپی امور برائے مہاجرین و شعبہ صحت عامہ اجلاس میں ایک ویڈیو پیغام کے حوالے سے کہا کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں عالمی سطح کے غریب معاشروں پربرے اثرات پڑے ہیں،ان میں تارکین وطن کا مسئلہ نمایاں ہے،ان تارکین وطن ہجرت کردہ ممالک میں بھی مصائب کا شکار ہیں جن میں کورونا کی وبا نے بھی مزید اضافہ کیا ہے،ان تارکین وطن کو امتیازانہ برتاو کا سامنا ہے جنہیں ہجرت کردہ ممالک میں صحت کی بنیادی سہولیات بھِی میسر نہیں ہیں۔
صدر نے کہا کہ ترکی نے اس سلسلے میں انسانی اقدار کے احترام میں اپنے شہریوں سمیت پناہ گزینوں کو بھی ممکنہ حد تک صحت عامہ کی بنیادی سہولیات بہم پہنچائی ہیں،وبا کے اس مشکل دور میں ترکی نے 160ممالک اور بارہ عالمی ادروں کو طبی سا زو سامان اور امدادی ٹیمیں روانہ کیں جبکہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کو بلا امتیاز صحت عامہ کی سہولیات بھی پہنچائیں،ہم نے اقوام متحدہ کی اعلان کر دہ "صحت سب کے لیے” نامی مہم کا بھرپور خیال رکھا اور اس پر عمل کیا ہے،ہم نے پناہ گزین شامی برادر عوام کو اکتیس لاکھ بستروں کے حامل طبی مراکز میں صحت عامہ کی خدمات دیں،اسپتالوں میں چھبیس لاکھ آپریشنز کیے گئےجبکہ قومی ویکسینیشن پروگرام کے سلسلے میں بھی ستاسی لاکھ خوراکیں لگائیں۔ ہم نے بلا لسان و ثقافتی امتیاز حفظان صحت کی خدمات کے مقصد کے لیے عالمی اداروں کے تعاون سے انتیس اضلاع میں مہاجرین کے لیے 186 مراکز صحت کھولے جبکہ سرحد پار بھی پچاس لاکھ شامیوں کی مدد کا بیڑِہ اٹھایا ۔
صدر نے مزید کہا کہ کورونا وبا سے شدید متاثرہ علاقوں میں بھی ویکسین کی مدد کی،ترک۔افریقی تیسرے مشترکہ اجلاس کے دوران ہم نےپندرہ ملین خوارکیں افریقی بردار عوام کو فراہم کیں،ملکی ساختہ ویکسین ترکو واک کی طلب بھِی ہم دور حاضر میں پوری کرنے کی کوشش میں ہیں،دور حاضر میں اس وبا کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پرناانصافیوں کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے جبکہ مہاجرین سے وابستہ شعبہ صحت میں کی جانے والی سرمایہ کاری کو جامع ہم آہنگی اورعالمی مساوات کے زریں اصولوں کے بر خلاف مہاجرین کی صحت سے چشم پوشی کے نتیجے میں عالمی ترقیاتی اہداف اور عالمگیری شعبہ صحت میں بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔