ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اداروں کی تقدس کو کون پامال کر رہا ہے؟

سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ جاری تباہ کن صورتحال بنیادی وجہ عمران خان کی شدید غیر اعلانیہ خواہش کہ مخصوص شخصیت کو جنرل باجوہ جانشین کی حیثیت سے تعینات کریں۔ بجا طور ن لیگ کو شدید تشویش ہے، ادارہ بھی مضطرب، گو دیر ہوگئی۔ مسئلہ کا حل مفاہمت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ گذشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کامران خان کا کہنا تھا کہ میں بڑی ہمت کرکے اس بارے میں قوم کو آگاہ کر رہا ہوں۔ میں بہت حساس موضوع پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ کوئی اس کا ذکر نہیں کر رہا۔ عام پاکستانی تو اس کے بارے میں بالکل بھی نہیں جانتے۔
کامران خان کا کہنا تھا کہ ناصرف نواز شریف اور مریم بی بی بلکہ پوری ن لیگ کو اس مخصوص شخصیت کیساتھ منسوب شدید قسم کے الزامات کی پوری تاریخ موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف زرداری اس معاملے میں قطعی طور پر نروس نہیں ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں اسی شخصیت کے ساتھ، ان کے قریبی اور ذاتی تعلقات برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پس منظر راستہ دکھاتا ہے پاکستان کو درپیش موجودہ تباہ کن صورتحال سے نکالنے کے فارمولے کا۔ عمران خان واقعی اس متنازع سمت میں چل رہے ہیں تو انھیں قائل کیا جائے۔ اس سلسلے میں صدر پاکستان عارف علوی، وفاقی وزرا اسد عمر، شفقت محمود، شاہ محمود قریشی اور عمران اسماعیل وغیرہ بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ سمیت مختلف حلقوں میں نومبر میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے جاری شدید خدشات کو دور کرنے کا 100 فیصد فول پروف طریقہ تیار کر لیں۔ چاہے تو اس اعلان بھی کر دیں۔ یہ ہے وہ فارمولہ جس کی بنیاد پر پاکستان کو آنے والے دنوں میں سیاسی سیکیورٹی، آئینی اور معاشی آفات سے بچایا جا سکتا ہے۔ یہ نتیجہ خیز کوششوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ورنہ جو کیفیت آج ہے اور آنے والے وقت میں نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کو مختلف احوال سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر لے جائے گی۔ اور اس کے بعد بھی جمہوریت بچ گئی تو بڑی بات ہوگی۔دوسری جانب معید پیرزادہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کامران صاحب کی یہ ویڈیو تو بڑی چونکا دینے والی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف اور مریم نواز جو کہ عدالتوں سے سزا یافتہ اور پاک فوج کے خلاف مہم کا حصہ رہے ہیں، انہوں نے جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر موجودہ حکومت کے خلاف یہ بحران کھڑا کیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نیوٹرل لفظ نے ایک شخص کی ہوا نکال دی ہے اور اس ایک لفظ کی وجہ سے وزیراعظم کی جماعت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ آج کل لفظ نیوٹرل کا بڑا چرچا ہے اور جب سے غیرجانبداری کی ہوا چلی ہے تو اس ایک لفظ نے کسی شخص کی بالکل ہوا نکال دی ہے۔انھوں نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی گنتی پوری کرنے کو تیار نہیں تو آپ انہیں جانور کہہ رہے ہیں لیکن نیوٹرل ہونا آئین کی پاسداری ہے اور آئین کی کوئی بات کر رہا ہے تو اس پر مچھلی کی طرح تڑپنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ نے کسی ادارے کو نیوٹرل نہیں رہنے دیا۔مریم نواز نے مزید کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے لیے کوئی گتنی پوری کرے لیکن گنتی نہ تو 2018، نہ گلگت بلتستان ، نہ سینٹ، نہ ذزاد کشمیر کے انتخابات میں پوری تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیوٹرل لفظ کی وجہ سے بائیس سالہ جدوجہد زمین بوس ہوگئی اور کبھی ایسا برا حال میں نے کسی ٹاننگہ پارٹی کا نہیں دیکھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دس بندے تو پورے نہیں ہورہے دس لاکھ بندے لارہے ہیں وہ دس بندے پورے کر لیں دس لاکھ لانے کی ضرورت نہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ آپ کی ناک کے نیچے سے آپ کے برسراقتدار ہونے کے باوجود آپ کی پوری پارٹی نکل گئی اور وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی آپ کے لوگ آپ کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کے سوال پر جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کی خرید و فروخت کو زیادہ وقت نہیں ہوا لیکن آپ اپنے اراکین کو کبھی لوٹے کبھی بکے ہوئے کہہ رہے اور دوسری طرف انہیں واپس انے پر معافی کا اعلان کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے عاقبت نا اندیش حامی اب انہی افراد و عناصر کی کردار کشی پر اترے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ایسا لگ رہا ہے کہ انہوں نے ایک غلط گھوڑے پر داؤ لگایا ہے ۔ درحقیقت اپوزیشن جماعتیں اسی وقت کا انتظار کررہی تھیں کہ کب اسٹیبلشمنٹ کا سر عمران خان کے سر سے اٹھے اور وہ کب ان پر حملہ آور ہوں۔ عمران خان کو بھی اب اس بات کا شدید احساس ہے کہ انہیں اکیلا بھیڑیوں کے سامنے پھینک دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اشاروں کنایوں میں اسٹیبلشمنٹ کو دھمکیاں دیتے ہیں تو کبھی ان کو پچکارتے ہیں اور اب جب انہیں اس بات کا یقین ہونے لگا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مداخلت نہیں کرے گی تو انہوں نے ان کی کردار کشی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ بہرحال یہ تمام صورتحال اپوزیشن کے لیے بہت ہی مثالی ہے۔ 
عمران خان نے اپنی پارٹی کے منحرف ارکان کے علاوہ میڈیا کو صاف الفاظ میں دھمکیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ارکان ’واپس‘ نہیں آئیں گے، عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسے ارکان کو عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا ہو گا۔ حتی کہ وہ ایسی مشکل میں گرفتار ہوجائیں گے کہ لوگ ان کے خاندان کے ساتھ رشتے کرنے سے انکار کرنے لگیں گے۔ میڈیا کو ’سچ رپورٹ‘ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ برائی کے خلاف اور نیکی و بھلائی کے حق میں لوگوں کو آگاہ کریں۔ عوام فیصلہ کریں گے کہ میڈیا کے کون سے ادارے حق کے ساتھ ہیں اور کون برائی کے ساتھ کھڑا ہے‘ ۔ اس فقرہ کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ جو میڈیا ہاؤس یا صحافی عمران خان کی زبان بولنے سے انکار کرے، وہ برائی کا نمائندہ ہے اور اس کے ساتھ ’انصاف‘ ملک کا قانون نہیں بلکہ عمران خان کے ’عوام‘ کریں گے۔
پیر، 21 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post اداروں کی تقدس کو کون پامال کر رہا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں